میں تیری گردن اڑا دیتا

  پیر‬‮ 4 جون‬‮ 2018  |  15:12

ایک باتونی شخص، حضرت علیؓ کے پاس بیٹھا ہواتھا، بڑی بے تکی باتیں کر رہا تھا، اچانک کہنے لگا: اے امیر المومنین! عثمانؓ (نعوذ باللہ) دوزخی ہیں. حضرت علیؓ نے اس سے پوچھا: تجھے کیسے علم ہوا؟ اس نے کہا کہ انہوں نے کئی بدعات ایجاد کی ہیں.حضرت علیؓ نے اس سے پوچھا کہ اگر تیری کوئی بیٹی ہو تو کیاتو لوگوں سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کرے گا؟اس نے کہا کہ نہیں.

حضرت علیؓ نے پوچھا کہ رسول اللہؐ کی اپنی صاحبزادیوں کے متعلق جو رائے تھی اس سے زیادہ بہتر کسی اور کی

رائے ہو سکتی ہے؟اس آدمی نے جواب دیا کہ نہیں.پھر آپؓ نے فرمایا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ نبی کریمؐ جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ فرماتے تھے تو استخارہ فرماتے تھے یا نہیں؟ اس نے کہا کہ ہاں، استخارہ فرماتے تھے. استخارہ فرماتے تھے. حضرت علیؓ نے فرمایا کہ تو پھر کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کی صاحبزادیوں کے لیے عثمانؓ کا انتخاب کیا یا نہیں؟ وہ آدمی کہنے لگا کہ ہاں،عثمانؓ کا انتخاب کیا. اس کو اپنی ہالت کا علم ہو گیا. پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’میں نے تجھے مارنے کے لیے اپنی تلوار میان سے نکالی تھی مگر اللہ نے اس کا انکار کیا. خبردار! خدا کی قسم! اگر تو کوئی اور بات کرتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎