ایک ایوارڈ یافتہ کالم

  ہفتہ‬‮ 2 جون‬‮ 2018  |  15:14

موسم سرما میں ایک نامور پاکستانی دانشور بھارت گئے، دورے کے اختتام پر ایک غیر سرکاری تنظیم نے دہلی میں ان کے اعزاز میں ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں پاکستانی دانشور کو ”خراج عقیدت“ پیش کرنے کے لیے چوٹی کے بھارتی دانشور تشریف لائے، نشست کے آخر میں جب سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک ہندو دانشور نے اپنے معزز مہمان سے ایک عجیب سوال پوچھا، پوچھنے والے نے پوچھا۔ ”یہاں بھارت میں تو مسلمان مساجد میں نماز ادا کرتے ہیں

وہاں پاکستان میں کہاں پڑھتے ہیں؟“ پاکستانی دانشور نے اس سوال

کو مذاق سمجھ کر فلک شگاف قہقہہ لگایا لیکن جب انہیں محفل کی طرف سے کوئی خاص رد عمل موصول نہ ہوا تو انہوں نے کھسیانا سا ہو کر سوالی کی طرف دیکھا، ہندو دانشور کے چہرے پر سنجیدگی کے ڈھیر لگے تھے، پاکستانی دانشور نے بے چینی سے پہلو بدل کر جواب دیا۔ ”ظاہر ہے مسجدوں ہی میں پڑھتے ہیں۔“ یہ جواب سن کر ہندو دانشور کھڑا ہوا، ایک نظر حاضرین پر ڈالی اور پھر مسکرا کر بولا۔ ”لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق تو پاکستانی مسجد وں میں نماز پڑھنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہے۔“ ہندو دانشور کا یہ تبصرہ پاکستانی دانشور کو سکڈ میزائل کی طرح لگا، اس کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا، ہاتھوں میں لرزہ طاری ہوگیا اور آنکھوں میں سرخی آ گئی، منتظمین

موقع کی نزاکت بھانپ گئے لہٰذا انہوں نے فوراً نشست کے اختتام کا اعلان کردیا یوں پاک بھارت تعلقات مزید بگڑنے سے بچ گئے۔یہ واقعہ مجھے مرحوم حکیم سعید نے سنایا تھا، مجھے آج بھی وہ گرم سہ پہر یاد ہے میں ہمدرد دوا خانہ راولپنڈی میں حکیم صاحب کے کمرے میں بیٹھا تھا، مرحوم خلاف معمول تھکے تھکے سے لگ رہے تھے میں نے ادب سے طبیعت کے اس بوجھل پن کی وجہ دریافت کی تو دل گرفتہ لہجے میں بولے ”ہم نے اس دکھ سے بھارت چھوڑا تھا کہ ہمیں وہاں مذہبی آزادی حاصل نہیں تھی، ہم نماز پڑھنے جاتے تھے تو ہندو مسجدوں میں سور چھوڑ دیتے تھے، خانہ خدا کے دروازے پر ڈھول پیٹتے تھے، بول و براز کی تھیلیاں ہمارے اوپر پھینکتے تھے، ہندو شر پسند پچھلی صفوں میں کھڑے نمازیوں کو چھرے گھونپ کر بھاگ جاتے تھے، ہم نے سوچا چلو پاکستان چلتے ہیں وہاں کم از کم ہمارے سجدے تو آزاد ہوں، ہماری مسجدیں، ہماری درگاہیں تو محفوظ ہوں گی لیکن افسوس آج مسلح گارڈز کے پہرے کے بغیر پاکستان کی کسی مسجد میں نماز کا تصور تک نہیں، مجھے میرے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید دہلی سے لکھتے ہیں، سعید واپس آجاﺅ، پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں، یہاں، ادھر کم از کم مسجدیں تو محفوظ ہیں.... لیکن میں۔“ ان کی آواز اکھڑ گئی۔

”پاکستان آنے پر آپ کو کبھی پچھتاوا ہوا؟“ میں نے نرمی سے پوچھا۔ ”انہوں نے اچکن کے بٹن سہلائے ”نہیں، ہرگز نہیں، یہ سودا ہم نے خود کیا تھا، حمید بھائی میرے اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، ان کی خواہش تھی میں دہلی ہی میں ان کا ہاتھ بٹاﺅں لیکن مجھے لفظ پاکستان سے عشق تھا لہٰذا اِدھر چلا آیا، اللہ تعالیٰ نے کرم کیا اور وہ ادارہ جس کی بنیاد میں نے بارہ روپے سے رکھی تھی آج پاکستان کے چند بڑے اداروں میں شمار ہوتا ہے، یہ سب پاکستان سے عشق کا کمال ہے۔“ ان کی آواز میں بد ستور ملال تھا۔ ”لیکن پاکستان کے حالات سے دکھ تو ہوتا ہوگا؟“ میں نے اپنے سوال پر اصرار کیا۔ ”ہاں بہت ہوتا ہے، اخبار پڑھتا ہوں، سیاستدانوں کے حالات دیکھتا ہوں، عوام کی دگرگوں صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو بہت دکھ ہوتا ہے، جب ادھر دہلی سے کوئی عزیز رشتے دار پاکستان آکر کہتا ہے، کیوں پھر، تو دل پر چھری سی چل جاتی ہے، لیکن کیا کریں، گھر جیسا بھی ہے ، ہے تو اپنا، ہم اسے چھوڑ تو نہیں سکتے، لہٰذا لگے ہوئے ہیں اور لگے رہیں گے آخری سانس تک....“ ”کوئی ایسی خواہش جس کا آپ نے آج تک کسی کے سامنے اظہار نہیں کیا؟“ انہوں نے کچھ دیر تک سوچا۔ ” ہاں کبھی کبھی جی چاہتا ہے میری موت حمید بھائی سے پہلے ہو، وہ میرے جنازے پر آئیں، میرے چہرے سے چادر سر کا کر دیکھیں اور پھر آہستہ سے مسکرا کر کہیں ”ہاں سعید تمہارا فیصلہ درست تھا۔“

وہ گرم دوپہر ڈھل گئی تو اس کے بطن سے آج کی خنک اور غمناک صبح طلوع ہوئی، میرے سامنے میز پر آج کے اخبار بکھر ے پڑے ہیں، ہر اخبار کی پیشانی کے ساتھ آج کے سب سے بڑے انسان کی تصویر چھپی ہے، خون میں نہائی اور حسرت میں ڈوبی ہوئی تصویر جو ہر نظر سے چیخ چیخ کر ایک ہی سوال کر رہی ہے۔ ”میرا جرم کیا تھا، مجھے کیوں مارا گیا، میں تو زخموں پر مرہم رکھنے والا شخص تھا پھر میرے جسم کو زخم کیوں بنا دیا گیا۔“ میرا دماغ سلگی لکڑیوں کی طرح چٹخنے لگا، میں نے سوچا، یہ تصویر آج دہلی کے کسی اخبار میں بھی چھپی ہوگی، وہ اخبار ہمدرد نگر کے ایک چھوٹے سے غریبانہ کمرے میں بھی پہنچاہوگا، چٹائی پر بیٹھے بیاسی (82) برس کے ایک بوڑھے نے بھی اسے اُٹھایا ہوگا، اس کی آنکھیں بھی ہزاروں لاکھوں لوگوں کی طرح چھلک پڑی ہوں گی، اس نے بھی شدت جذبات سے اخبار پرے پھینک دیا ہو گا، اس نے بھی بازو پر دانت جما کر چیخ ماری ہو گی، اس نے بھی اپنی چھاتی پر ہاتھ مارا ہوگا، اس نے بھی چلا چلا کر کہا ہوگا۔ ”سعید تمہارا فیصلہ غلط تھا، مجھے دیکھو 82 برس کے اس بوڑھے کو دیکھو، یہ بغیر محافظ کے مسجد جاتا ہے، پیدل مطب پہنچتا ہے، روز صبح شام کافروں کے درمیان چہل قدمی کرتا ہے لیکن اس پر کبھی کوئی گولی نہیں چلی، اس کا کبھی کسی نے راستہ نہیں روکا۔“ ہاں اس 82 برس کے کمزور بوڑھے نے چلا چلا کر کہا ہوگا۔ ”سعید میں کربلا میں زندہ رہا تم مدینے میں مارے گئے۔“

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎