کونسا عضو سب سے اہم ہوتا ہے؟

  ہفتہ‬‮ 2 جون‬‮ 2018  |  14:19

ایک لڑکا بہت چھوٹا سا تھا تو اس کی ماں نے اس سے پوچھا کہ بیٹے آپ کو معلوم ہے کہ کسی بھی انسان کے جسم کا سب سے اہم عضو کونسا ہوتا ہے؟ بچہ کافی دیر سوچتا رہا اور پھر بولا کہ اس کے کان۔اس نے بولا کہ کانوں سے ہم سب کچھ سنتے ہیں اس لیے کان سب سے اہم ہوتے ہیں۔اس کی ماں مسکرائی اور بولی نہیں۔۔۔ابھی آپ اور سوچو۔میں بعد میں آپ سے پوچھوں گی۔ اس عورت نے بہت سال دوبارہ اپنے بیٹے سے یہ سوال نہیں کیا۔

تین سال بعد اس نے

اپنے بیٹے سے پھر پوچھا کہ اب بتاؤ کہ سب سے اہم انسانی عضو کونسا ہوتا ہے؟ لڑکا سوچتا رہا اور پھر بولا کہ امی آنکھیں کیونکہ ان سے ہم سب کچھ دیکھتے ہیں۔ اس کی ماں نے بولا کہ تم ابھی بھی بہت چھوٹے ہو اور اسی لیے تمہاری عقل کچی ہے۔آپ اس بارے میں اور سوچنا میں بعد میں دوبارہ پوچھوں گی۔جب وہ لڑکا اٹھاراں سال کی عمر کو پہنچا تو اس کے والد کی وفات ہو گئی۔سب لوگ رو رہے تھے ۔گھر میں ایک کہرام مچا ہوا تھا۔وہ عورت اپنے بیٹے کے پاس گئی اور اس سے بولا کہ آپ کو یاد ہے کہ میں آپ سے پوچھتی تھی کہ سب سے اہم جسمانی عضو کونسا ہوتا ہے؟ وہ لڑکا رو رہا تھا ۔

اس نے بولا کہ مجھے نہیں پتہ۔۔۔مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ میرا دل پھٹ رہا ہے۔اس عورت نے بولا کہ بیٹے سب سے اہم عضو انسان کے کندھے ہوتے ہیں۔لڑکا حیرت سے اپنی ماں کو تک رہا تھا کہ اس بات کا کیا مفہوم ہے تو اس کی ماں پیار سے بولی کہ باقی سب عضو تو ہم اپنی خود غرضی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اپنی بینائی کے لیے، اپنی سماعت کے لیے۔اپنی بھوک پیاس مٹانے کو مگر یہ کندھے بالکل خود غرض نہیں ہوتے۔یہ دوسروں کو سہارہ دیتے ہیں۔ہر مشکل وقت میں تمہارے دوست اور رشتہ دار تمہارے کندھے پر سر رکھ کر رو سکتے ہیں۔ دل ہلکا کر سکتے ہیں۔ وہ لڑکا سمجھ گیا تھا اور مسلسل رو رہا تھا۔اس نے اپنی ماں کے کندھے پر سر رکھ لیا اور اس کو سکون نصیب ہوا۔

ابھی اس نے اپنی ماں کے کندھے کا سہارہ لیا تھا اور تھوڑی دیر میں اس نے اپنے باپ کے جنازے کو کندھا دینا تھا۔انسانی زندگی صرف رشتوں ناتوں کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ ہم آج کی دنیا کے مطابق مقابلہ بازی میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔جس انسان کو کامیابی اور پیسہ مل جاتا ہے وہ جب بالکل تنہا رہ جاتا ہے تو سمجھ آتی ہے کہ رشتے اتنے اہم کیوںہوتے ہیں۔ انسان کی کوئی خوشی مکمل نہیں جب تک وہ اس کو کسی کے ساتھ شےئر نہیں کرتا۔انسان کا کوئی غم کم نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس کو باقیوں کے ساتھ بانٹے نہیں۔رشتے ناتے جدھر ہمیں سخت ناگوار گزرتے ہیں ادھر اس بات سے منہ نہیں موڑا جا سکتا کہ زندگی کا اصل سہارا صرف اور صرف یہی رشتے ناتے ہوتے ہیں باقی سب انسان کی بے سروپا حسرتیں ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎