رئیس زادی

  جمعہ‬‮ 1 جون‬‮ 2018  |  14:45

شیخ سعدی نے اپنی مشہور و معروف نثر مجلس پنجگانہ میں یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت سہلؒ طبیب تھے۔ان کو الہام کیا گیا کہ تم خراسان جا ؤ وہاں کے ایک رئیس کی بیٹی جنون میں مبتلا ہے۔اس کا علاج کرو ۔حضرت سہلؒ یہ اہلام ہوتے ہی خراسان کے لئے چل پڑے۔لوگوں سے اس رئیس کا پتہ دریافت کیا تو انہوں نے ایک عالیشان محل کی طرف اشارہ کیا۔حضرت سہل محل کی طرف گئے تو دیکھا کہ وسیع و عریض قصر ہے جس کے سامنے ایک دلکش باغ ہے اور اس میں کچھ آدمی گشت میں

مصروف ہیں ۔

حضرت سہل نے محل کی دیوار پر نظر ڈالی تو بیسیوں کٹے ہوئے سر نظر آئے ۔واپس آکر ان لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے انہوں نے کہا کہ تجھ سے پہلے کئی طبیب آئے جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ اس لڑکی کا علاج کریں گے۔رئیس نے اس شرط پر ان کو اپنی بیٹی کا علاج کرنے کی اجازت دی کہ اگر علاج میں کامیاب نہ ہوئے تو ان کا سر قلم کردیا جائے گا۔چناچہ یہ کٹے ہوئے سر انہیں طبیبوں کے ہیں جو اپنے تمام نسخے آزمانے کے باجود علاج میں ناکام رہے۔

وہ لوگ حضرت سہلؒ کو قصر کے اندر لے گئے اور رئیس سے ان کا تعارف کرایا ۔رئیس اس وقت چند آدمیوں کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا۔اس نے حضرت سہل کو اشارہ کیا کہ بیٹھ جائیں اور جب وہ آدمی چلے گئے تو رئیس حضرت سہلؒ سے یوں مخاطب ہوا۔ رئیس :یہاں آنے سے تمہاری کیا غرض ہے؟حضرت سہلؒ :میں نے سنا ہے کہ تمہاری ایک لڑکی ہے جو جنون کے عارضہ میں مبتلا ہے ۔میں اس کے علاج کے لئے آیا ہوں ۔ رئیس :پہلے میرے محل کی دیوار کے اندر نگاہ ڈالو۔حضرت سہلؒ :میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔رئیس ان کا جواب سن کر بہت حیرا ن ہوا۔چناچہ اس نے زنان خانے میں پیغام بھیجا کہ شہزادی کو تیار کریں۔ایک طبیب اسے دیکھنے آیا ہے ۔رئیس نے حضرت کو اپنے ساتھ لیا اور حرم سرا میں داخل ہوا۔جب دونوں لڑکی کے کمرے کے قریب پہنچے تو لڑکی نے کنیز کو آواز دی۔

’’میرا نقاب لاؤ تاکہ میں پردہ کرلوں‘‘۔ رئیس نے پوچھا اس سے پہلے جو بھی طبیب آئے تم نے پردہ نہیں کیا پھر اس سے کیوں کر رہی ہو؟لڑکی نے جواب دیا:(وہ مرد نہیں تھے ۔مرد یہ ہے جو اب آیا ہے)۔

حضرت سہلؒ لڑکی کے قریب گئے اورا لسلام علیکم کہا۔ رئیس زادی:’’علیکم السلام اے پسر خاص ‘‘ حضرت سہل ؒ :تم نے کیسے سمجھا کہ میں پسر خاص ہوں۔ رئیس زادی :جس نے تم کو یہاں بھیجا اس نے مجھ کو بھی متنبہ کردیا ہے کہ تمہیں اللہ نے ایسی نعمت سے نوازا ہے جس سے روح کو تسکین ملتی ہے۔اسی وجہ سے میں خجالت محسوس کر رہی ہوں۔ حضرت سہل ؒ سمجھ گئے کہ لڑکی کو جنون نہیں بلکہ کچھ اور شئے ہے۔انہوں نے قرآن حکیم کی ایک آیت پڑھی کہ شاید اس میں علاج ہو اور لڑکی کو سکون میسر ہوجائے۔رئیس زادی نے جونہی یہ آیت سنی غش کھا کر گر پڑی۔تھوڑی دیر بعد جب ہوش میں آئی تو حضرت سہلؒ نے اس سے مخاطب ہوکر کہا۔آکہ تجھے سرزمین اسلام میں لے جاؤں۔ رئیس زادی:سرزمین اسلام میں کیا شے ہے جو یہاں نہیں ہے؟ حضرت سہلؒ :ارض اسلام میں کعبہ معظم ہے۔ رئیس زادی :’’نادان اگر تو کعبہ کو دیکھے تو اسے پہچان لے گا؟‘‘حضرت سہلؒ :ہاں رئیس زادی:میرے سر کے اوپر نگاہ کرو۔

حضرت سہلؒ نے اوپر نظر اٹھائی تو ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ان کی نظر کے سامنے کعبتہ اللہ موجود تھا جو لڑکی کے سر کے گر د طواف کرتامعلوم ہوتا تھا۔حضرت سہلؒ یہ نظارہ دیکھ کر ششدہ رہ گئے اور پھر بے ہوش ہوکر گر پڑے تھوڑی دیر بعدہوش میں آئے تو رئیس زادی سے پوچھا ۔ تو نے یہ مرتبہ کس طرح حاصل کیا ؟ رئیس زادی:جو شخص اپنے پاؤں کے ساتھ کعبہ جاتا ہے وہ کعبہ کا طواف کرتا ہے اورجو اپنے دل کے ساتھ کعبہ جاتا ہے کعبہ اس کا طواف کرتا ہے۔تجھے معلوم ہونا چاہئے ۔تو ابھی خدا سے ایک قدم دور ہے اگر تمہاری خواہش ہو تو میں تمہارے لئے اس راز کو فاش کر دیتی ہوں۔

حضرت سہلؒ :میری جان تم پر قربان جلدی کہو ورنہ میں دیوانہ ہوجاؤں گا ۔ رئیس زادی:جس نے اپنے نفس کو جان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا رئیس زادی کا جواب سن کر حضرت سہل تستری کے سارے حجابات دور ہوگئے۔ان کے دل سے اپنی ولادیت اور بڑائی کاخیال یکسر جاتا رہا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎