کیسے آپ با آسانی کسی کا جھوٹ پکڑ سکتے ہیں؟

  منگل‬‮ 29 مئی‬‮‬‮ 2018  |  15:10

یہ وہ پانچ طریقے ہیں جن سے بڑے بڑے حساس ادارے دنیا بھر میں مجرموں اور ملزمان کے سچ اور جھوٹ کا فرق کرتے ہیں۔جو انسان بات کر رہا ہو اس سے پورا واقعہ پوچھیں۔ جب وہ ساری روداد’ الف‘ سے’ یے‘ تک سنا چکے تو اس سب کو اچھے سے ذہن نشین کر لیں ۔ کسی اور دن اس سے وہی واقعہ پھر پوچھیں۔ اب کی بار نوٹ کریں کہ اس میں کتنی ردوبدل رونما ہوئی ہے۔ کسی اور دن اس سے ایک بار پھر وہی واقعہ سنیں، اگر امزید ردوبدل نظر آرہی ہے تو اس کا

مطلب ہے

وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ جس انسان کو جانچنا چاہیں اس کی’ باڈی لینگو یج ‘پر توجہ دیں۔اگر کوئی سوال پوچھنے پر اس کو بے چینی محسوس ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کے بارےاس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرے گا۔ دیکھیں کہ وہ بار بار اپنے بیٹھنے کے سٹائل کو بدل تو نہیں رہا۔ زیادہ تر لوگ فطری طور پر جھوٹ بولتے ہوئے اپنے ہاتھ اور انگلیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جھوٹ اور سچ جانچنے کا سب سے بڑا آلہ کار کسی انسان کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ یہ صرف کہاوتیں نہیں ہیں کہ آنکھیں بولتی ہیں۔ آنکھیں دراصل پوری پوری کہانی سنا دیتی ہیں۔ صرف غور کرنے کی بات ہے۔

جب کسی کا سچ جھوٹ پکڑ رہے ہوں تو اس سے سوال کر کے اس کی آنکھوں پر غور کریں کہ کہیں وہ جھک تو نہیں رہیں۔ پھر یہ دیکھیں کہ وہ جواب دیتے ہوئے بار بار آنکھیں کسی اور سمت میں تو نہیں پھیر رہا۔اسی طرح جو انسان سچ بولتا ہے ہمیشہ بے خوف ہو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ وہ اپنے سچ پر فخر کرتا ہے اور یہ بھی فطری عمل ہے، وہ کبھی ’آئی کانٹیکٹ‘ بریک نہیں کرتا۔ جبکہ سچا انسان صرف حیا یا شرمندگی کے باعث آنکھیں نیچی کر سکتا ہے۔ کوئی جواب دیتے ہوئے رو پڑے تو یہ بھی اس کے سچے ہونے کی نشانی ہے ۔وہیں ایک جھوٹا شخص جھوٹ الاپتے ہوئے آنکھیں نیچی کرتا ہے۔

اب یہ چیک کریں کہ جواب دیتے ہوئے وہ عام طور سے زیادہ اونچا یا آہستہ تو نہیں بول رہا۔ لوگ فطرتاً جھوٹ بولتے ہوئے یا تو عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں اور اونچا اونچا بولنے لگتے ہیں۔ یا پھر بہت دھیما اور آہستہ بات کرنے لگتے ہیں کیونکہ وہ ساتھ ساتھ اپنے دماغ میں کہانی بنا بنا کر سنا رہے ہوتے ہیں۔جب کوئی بھائی اپنی لاڈلی بہن کو مزاق میں چھیڑتا ہے تو وہ محظوظ ہو کر ہمیشہ اونچی آواز میں جواب دیتی ہے۔ وہ فطری طور پر عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہے اس لیے۔ اسی طرح دنیا کے زیادہ تر بڑے اور نامور سیاست دانوں کی تقاریر اور سوال جواب سنیں وہ بہت رک رک کر جواب دیتے ہیں۔

کسی بات کا جواب دینے میں اتنا وقت لگاتے ہیں کیونکہ ان کی تقریر دوسرے لوگوں کی تحریر ہوتی ہیں اور جب جواب دہی کرنی پڑے تو وہ بہت نپے تلے الفاظ میں چالاکی سے جواب دیتے ہیں۔ جو انسان سچ بولتا ہے یا تو وہ بولتا بہت کم ہے یا جب بولتا ہے پھٹ پڑتا ہے۔ اس کی ہر بات ہمیشہ ایک سی ہوتی ہے کیونکہ اسے کوئی بات بنانی نہیں پڑتی۔وہ اپنی سوچ کا اظہار بھی کھلے الفاظ میں کرتا ہے اور آرام سے بول دیتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ہے کیونکہ سچے انسان کا ضمیر ملامت نہیں کرتا اور وہ لوگوں میں کسی بد نامی یا بے عزتی سے ڈرتا نہیں ہے۔ آخری طریقہ یہ ہے کہ نوٹ کریں کہ جب وہ انسان جسے آپ جھوٹ یا سچ کے لیے ٹیسٹ کر رہے ہیں، وہ آپ کا کوئی سوال پوچھنے پر موضوع کو بدلنے کی کوشش تو نہیں کر رہا۔

اگر کسی سوال پر وہ ہر بار چڑ جاتا ہے یا اس پر موضوع بدلتا ہے تو آپ کو آپ کا جواب مل چکا ہے پر آپ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ آپ سچائی کا سامنا کر سکیں۔حاصل سبق پانچ موثر طریقوں سے آپ کسی کا جھوٹ پکڑ سکتے ہیں۔ اس سے پوری کہانی سنیں اور تین سے چار مرتبہ مختلف اوقات میں سنیں اگر تمام تفصیلات ایک سی رہتی ہیں تو وہ عموماً سچ بولتا ہے۔ اس سے سوال پوچھ کر دیکھیں اگر وہ پر سکون بیٹھ کر جواب دے رہا ہے تو وہ سچا ہے۔ اگر وہ نارمل طریقے سے بات کر رہا ہے، آواز نہ اونچی ہو رہی ہے نہ دھیمی تو آپ بے جا شک کر رہے ہیں۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتا ہے تو صادق ہے۔

اگر کسی بھی موضوع پر بات کرنے کو تیار ہے تو بھی سچا انسان ہے۔ اگر معاملہ اس کے بر عکس ہے تو خطرے کی بات ہے۔ انسان کسی کے ساتھ وقت گزارتا ہے تو ویسے بھی اس کی فطرت سے بخوبی واقف ہو جاتاہے۔ اپنی چھٹی حس کی ضرور سنیں۔ کیونکہ زیادہ تر انسان کی چھٹی حس سب سے زیادہ درست ہوتی ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎