Android AppiOS App

نعم البدل 

  پیر‬‮ 28 مئی‬‮‬‮ 2018  |  16:10

عربی ساربان نے پوچھا ”تمہارے پاس کتنے اونٹ ہیں“ اجنبی نے مسکرا کر جواب دیا ”میں سادہ سا ریاضی دان ہوں‘ میرا علم بتاتا ہے آپ جب تک دوسرے پلڑے میں وزن برابر نہیں کرتے آپ کا توازن مکمل نہیں ہوتا‘میرے پاس کوئی اونٹ نہیں“۔ ساربان نے برا سا منہ بنایا اور کجاوے سے وزن اتارنا شروع کر دیا‘ ریاضی دان نے گھبرا کر پوچھا ”تم یہ کیا کر رہے ہو

“ ساربان نے عربی کی ایک کہاوت پڑھی‘ جس کا مفہوم تھا ”تم جب بھی مشورہ کرو‘ تجربہ کار سے کرو‘ عقل مند سے نہ کرو“ اور اس کے بعد بولا ”تم خواہ کتنے ہی بڑے ریاضی دان کیوں نہ ہو جاؤ‘ تمہارا اونٹوں کے بارے میں تجربہ صفر ہے اور میں ناتجربہ کار کے ہاتھوں

برباد نہیں ہونا چاہتا“ ریاضی دان اپنا سا منہ لے کر رہ گیا‘ یہ کیا تھا؟ یہ عربوں کی ایک چھوٹی سی داستان تھی‘داستان کے مطابق عرب ساربان اونٹ پر وزن لاد رہا تھا‘ اس نے سارا وزن کجاوے کی ایک سائیڈ پر لاد دیا‘ اونٹ کو اٹھایا تو اونٹ نے اٹھنے سے انکار کر دیا‘ ریاضی دان یہ منظر دیکھ رہا تھا‘ ریاضی دان نے ساربان کو مشورہ دیا ”تم کجاوے سے آدھا وزن نکال کر دوسرے حصے میں ڈال دو‘ کجاوے میں توازن قائم ہو جائے گااور اونٹ آسانی سے کھڑا ہو جائے گا“۔

ساربان نے بات مان لی‘ ایک سائیڈ سے آدھا وزن اتار کر دوسری سائیڈ میں ڈ ال دیا‘ توازن قائم ہو گیا‘ اونٹ کھڑا ہو گیا‘ ساربان نے خوش ہو کر ریاضی دان سے پوچھا ”تمہارے پاس کتنے اونٹ ہیں“ ریاضی دان نے جواب دیا ”میں سادہ سا ریاضی دان ہوں‘ میرے پاس کوئی اونٹ نہیں“ ساربان نے غصے سے ماتھے پر ہاتھ مارا‘ اونٹ نیچے بٹھایا‘ وزن اتار کر دوبارہ پہلے کجاوے میں ڈال دیا اور بولا ”میں ناتجربہ کار کے ہاتھوں برباد نہیں ہوناچاہتا“ آپ کو یہ عرب یقینا بے وقوف محسوس ہو گا لیکن عرب لوگ ہزاروں برس سے تجربے کو عقل پر فوقیت دیتے آ رہے ہیں‘ یہ جب بھی مشورہ کرتے ہیں‘ یہ عقل مند کی بجائے تجربہ کار سے کرتے ہیں‘ یہ طریقہ کار عربوں کے جینز کا حصہ بن چکا ہے‘ نبی اکرمؐ اللہ کے آخری نبی ہیں‘ دنیا کا کوئی شخص آپؐ کی فراست تک نہیں پہنچ سکتا لیکن آپؐ بھی احباب سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ہمیشہ تجربہ کار کی بات کو اہمیت دیتے تھے‘ آپؐ نے جنگ خندق کے دوران حضرت سلمان فارسیؓ کے تجربے سے فائدہ اٹھایا‘ آپؐ کو حضرت سلمان فارسی ؓنے بتایا اہل فارس جنگوں کے دوران شہر کے گرد خندق کھود کر اس میں پانی چھوڑ دیتے ہیں“ آپ نے یہ مشورہ مان لیا اور صحابہ کرامؓ کو خندق کھودنے کا حکم دے دیا‘

تجربہ دنیا کی اتنی بڑی حقیقت ہوتا ہے‘ آپ کتنے ہی عقل مند کیوں نہ ہو جائیں‘ آپ بہر حال تجربہ کار لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ کسی دن دنیا کے کامیاب لوگوں پر تحقیق کریں‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے یہ لوگ ہمیشہ تجربہ کار لوگوں کو اپنا مشیر بناتے ہیں‘ آپ دنیا کے کامیاب حکمرانوں کے پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو ان کے گرد بھی سفید بالوں والے تجربہ کار لوگ نظر آئیں گے اور آپ دنیا کے بڑے دانشوروں‘ سائنس دانوں‘ پروفیسروں اور فلاسفروں کے پروفائل بھی نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو ان کی کنپٹیاں بھی سفید دکھائی دیں گی‘ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے‘

آپ کو انبیاء کی اس فہرست میں بھی بہت کم جوان نبی نظر آئیں گے‘ آپ نوے فیصد انبیاء پر اس وقت وحی اترتے دیکھیں گے جب وہ تین چوتھائی زندگی گزار چکے تھے اور ان کی کنپٹیاں اور داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں‘ ایسا کیوں ہے؟ یہ اللہ کی طرف سے تجربے کا اعتراف ہے‘ قدرت بھی وحی نازل کرنے سے قبل نبی کے تجربہ کار ہونے کا انتظار کرتی تھی‘ تجربہ انسان کو پختہ بناتا ہے‘ یہ انسان کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے اور یہ اس کی عقل کو بھی سلیم کرتا ہے‘ آپ کو زندگی میں زیادہ تر عقل مند لوگ غلطیاں کرتے دکھائی دیں گے جبکہ آپ تجربہ کار لوگوں کو ہمیشہ اطمینان سے بیٹھا دیکھیں گے‘ یہ آپ کو چھلانگیں لگاتے نظر نہیں آئیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ تجربہ انسان کے اندر استحکام پیدا کرتا ہے!

سوالات

ایک مرتبہ ایک بدو حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، "یا رسول اللہؑ ! میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔؟آپؑ کی طرف سے اجازت ملنے پر اْس نے جو گفتگو کی وہ بلا شبہ ہم سب کیلئے بھی مشعلِ راہ بن سکتی ہے، آئیے ہم سب بھی ملاحظہ فرماتے ہیں، اور اپنا اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔اْس نے عرض کیا: "میں امیر بننا چاہتا ہوں۔"آپؑ نے فرمایا: "قناعت اختیار کرو، امیر بن جاؤ گے۔"عرض کیا: "عزت والا بننا چاہتا ہوں۔"فرمایا: "مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو، عزت دار بن جاؤ گے۔

"عرض کیا: "عادل بننا چاہتا ہوں۔"فرمایا: "جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو، دوسروں کیلئے بھی وہ پسند کرو۔"عرض کیا: "طاقتور بننا چاہتا ہوں۔"فرمایا: "اللہ پر توکل کرو۔"عرض کیا: "اللہ کے دربار میں خاص درجہ چاہتا ہوں۔"فرمایا: "کثرت سے ذِکرِ خدا کیا کرو۔"عرض کیا: "روزی کی کشادگی چاہتا ہوں۔"فرمایا: "ہمیشہ باوضو رہا کرو۔"عرض کیا: "دْعا کی قبولیت چاہتا ہوں۔"فرمایا: "حرام نہ کھاؤ۔"عرض کیا: "ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں۔"فرمایا: "اخلاق اچھا کرو۔"عرض کیا: "گناہوں میں کمی چاہتا ہوں۔"فرمایا: "کثرت سے استغفار کیا کرو۔" (مفہوم حدیث; صحیح مسلم)

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎