اگر راز رکھو تو میں بتا دیتا ہوں

  جمعہ‬‮ 25 مئی‬‮‬‮ 2018  |  14:53

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ شہر یثرب ہی میں تھے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے متعلق کچھ اڑتی اڑتی سی خبر سنی انہوں نے اپنے بھائی سے کہا تم مکہ جاؤ اور اس شخص سے مل کر آؤ۔آپ کا بھائی انیس مکہ میں آیا نبی کریم ﷺ سے ملا پھر بھائی کو جا بتایا کہ میں نے محمدﷺ کو ایک ایسا شخص پایا جو نیکیوں کے کرنے اور شر سے بچنے کا حکم دیتا ہے،ابوذر رضی اللہ نے کہا اتنی سی بات سے تو کچھ تسلی نہیں ہوگی آخرخود پیدل چل کر مکہ پہنچے حضرت ابو

ذر رضیاللہ

ذر رضیاللہ عنہ کو حضورﷺ کی شناخت نہیں تھی

اور کسی سے دریافت کرنا بھی وہ پسند نہیں کرتے تھے زمزم کا پانی پی کر کعبۃالله ہی میں لیٹے رہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے پاس کھڑے ہو کر کہا کر کہا یہ تو کوئی مسافر معلوم ہوتا ہے، ابوذر بولے؛ ہاں میں مسافر ہوں۔حضرت علی نے کہا اچھا میرے ہاں چلو اور رات وہیں گزارو۔حصرت ابوذر رضی اللہ عنہ رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر ان کے ساتھ ہی رہے نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ پوچھا نہ حضرت ابوذر رضی اللہ نے کچھ بتایا۔

صبح ہوئی ابوذر رضی اللہ عنہ پھر کعبہ میں چلے گئے دل میں آنحضرتﷺ کی تلاش تھی مگر کسی سے دریافت نہ کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں آپہنچے انہوں نے فرمایا شاید تمہیں اپنا ٹھکانا نہیں ملا چلو آج بھی میرے ہاں ہی رہو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہاں میں جواب دیا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ انکے گھر چل دیے۔اب حضرت علی نے پوچھا تم کون ہو اور کیوں یہاں آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟ ابوذر رضی اللہ نے کہا "اگر راز رکھو تو میں بتا دیتا ہوں" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا کہ وہ راز ہی رکھیں گے۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے سنا ہے اس شہر میں ایک شخص ہے جو اپنے آپ کو نبی بتاتا ہے میں نے اپنے بھائی کو پہلے یہاں بھیجا تھالیکن وہ تسلی بخش بات نہیں لے کر گیا اس لیے خود آگیا ہوں۔۔۔۔۔۔

حصرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا تم خوب آئے اور خوب ہوا کہ تم مجھ سے ملے دیکھو میں انہیں کی خدمت میں جا رہا ہوں میرے ساتھ چلو میں پہلے اندر جا کر دیکھوں گا اگر اس وقت ملنا مناسب ہوگا تو دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو جاؤں گا تم اندر آجانا۔۔۔الغرض حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ خدمت نبویﷺ میں پہنچے اور عرض کیا؛ مجھے بتایا جائے کہ اسلام کیا ہے؟ آنحضرتﷺ نے اسلام کے بابت بیان فرمایا اور ابوذر اسی وقت مسلمان ہو گئے۔حضور ﷺ نے فرمایا! ابوذر رضی اللہ عنہ تم ابھی اس بات کو چھپائے رکھو اور اپنے وطن واپس چلے جاؤ اور جب تمہیں ہمارے ظہور کی خبر مل جائے تب آنا

لیکن ابودز رضی اللہ عنہ بولے بخدا میں تو ان دشمنوں میں اعلان کر کے جاؤنگا۔اب ابوذر رضی اللہ عنہ کعبہ کی طرف آئے یہاں قریش جمع تھے آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر سنایا قریش کے لوگوں نے سنا تو کہا اس بے دین کو مارو لوگوں نے انہیں مارنا شروع کردیا اتنے میں حضرت عباس وہاں پہنچے تو انہوں نے جھک کر انہیں دیکھا تو کہا ارے کم بختو یہ قبیلہ غفار کا آدمی ہے جہاں تم تجارت کو جاتے ہو اور کھجوریں لاتے ہو لوگ پیجھے ہٹ گے اور انہیں چھوڑ دیا،کچھ دن مکہ میں قیام کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کو ان کے گھر واپس جانے کا حکم کر دیا اور فرمایا

میں عنقریب یثرب ہجرت کرنے والا ہوں اس لیے بہتر یہ ہے تم یہاں سے چلے جاؤ اور اپنی قوم کو جا کر اسلام کی تبلیغ کرو شائد اللہ انہیں ہدایت دے اور اسکے بدلے تمہیں بھی اجر ملے انہوں نے آپﷺ کا حکم پاتے ہی روانگی کی تیاری کی اور وطن کا سفر شروع کرنے سے پہلے اپنے بھائی انیس سے ملے انہوں نے کہاکیاکر کے آئے ہو، جواب دیا میں دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں یہ سنتے ہی آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی نے بھی اسلام قبول کر لیا یہاں سے دونوں بھائی تیسرے بھائی انس کے پاس پہنچے وہ بھی انکی دعوت اسلام دینے پر مشرف بااسلام ہوئے اسکے بعد تینوں وطن پہنچے اور دعوت حق میں اپنا وقت صرف کرنے لگے۔اللہ تعالٰی نے انکو ہدایت دی اور سارا قبیلہ مسلمان ہوگیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎