خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ جاسوسی اور رپورٹنگ کیسے کرتے ہیں؟ معلوماتی رپوٹ

  بدھ‬‮ 23 مئی‬‮‬‮ 2018  |  15:59

یہ ایک لمبا کورس ہے جو یہاں بیان نہیں ہوسکتا ۔مگر پھر بھی کوشش کرتا ہوں تاکہ آپ لوگوں کی بدگمانی شکوک و شبہات دور ہوسکیں۔جاسوس کا کام ہوتا ہے ریکی کرنا ۔ریکی بھیس بدل کر کی جاتی ہے ۔جو کہ ٹرک ڈرائیور، رکشہ ڈرائیور، ٹیچر، مالی، باورچی، فقیر، ملنگ، پاگل، چھابڑی فروش یا آپ کے محلے بازار کے کونے پر آپ کے ساتھ لوڈو گیم کھیلنے والے کی شکل میں کی جاتی ہے جبکہ آپ اصل گیم سے بلکل بے خبر ہوتے ہیں کہ وہ فارغ آدمی آپ کے ساتھ کونسی گیم کھیل رہا ہے ۔ریکی کِن

کی کیجاتی ہے ؟

ریکی تقریباً سب کی کیجاتی ہے۔ مگر کچھ لوگوں کی بہت زیادہ اور کچھ کی کم ۔آپ گھبرائیں مت اگر آپ محب وطن ہیں ۔ کیونکہ ریکی سب کی کیجاتی ہے ۔ حساس ادارے اور ادراے کے سارے ملازمین کی اعلی سے ادنیٰ تک کے مشکوک لوگوں کی ۔عوام الناس کی صرف خبریں اور معلومات اکھٹی کی جاتی ہیں ۔اور کرنے کو مندرجہ بالا لوگ جو ذکر ہے کرتے ہیں ۔اب مختصراً آپ کو سمجھانا اور آپ کے شکوک شبہات کو دور کرنے کےلیے عرض ہے کہ عوام الناس کے ریکی کرنے والا ہر ایجنٹ بیک وقت تین اضلاع میں ڈیوٹی پر ہوتا ہے جو کسی بھی لمحے تینوں اضلاع کے کسی بھی شہر یا گاؤں میں جاسکتا ہے ۔

اس کی ایک خاص وجہ ہے :

اب اگر ایک ایجنٹ کسی ایک آدمی کو ثبوتوں کے ساتھ دس مرتبہ بھی رپوٹ کرلے، مگر وہ سارے رپورٹ اُس ایک آدمی پر ہاتھ ڈالنے کےلیے اُس وقت تک ناکافی سمجھے جاتے ہیں جب تکہ کم سے کم دو اور ایجینٹ متعلقہ شخص کو اسی جرم میں ملوث قرار نہ دے دیں۔ مطلب ذاتیات اور غلط فہمی کی گنجائش بھی نہیں آسکتی ۔دوسری اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی ایجنٹ کسی بھی مجرم کو خود اپنے بیہاف پر رپورٹ نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ رپورٹ کے کوائف میں اس پر گواہوں کی گواہی ریکارڈ کیجاتی ہے ۔ مثلا ایجینٹ رپورٹ میں لکھے گا کہ فلاں ولد فلاں سکنہ فلاں جوکہ مجرم کے حلقہ یاراں یا نزدیک سے جانے والوں میں سے ہیں ، کا کہنا ہے کہ مجرم فلاں جرم میں شامل اور ملوث ہے ۔ اور یہ بات ایجنٹ ان لوگوں کے منہ سے کسی بھی مجلس یا محفل میں بہت آرام سے ریکارڈ کرکے چلا جاتا ہے ۔

پہلے ایجنٹ کی پہلی رپورٹ پر آدمی کو مشکوک کی لسٹ میں ڈال کر فائل بند کردی جاتا ہے دوسری رپورٹ آنے پر جب اسکا نام پہلے سے لسٹ میں موجود ہوتا ہے ، تھوڑا اوپر آجاتا ہے اور تیسری رپورٹ پر تینوں رپورٹس کا جائیزہ لیکر خاص نظروں کے حوالہ کیا جاتا ہے ۔ اب کی بار اگر تھوڑی بھی گڑبڑ کی تو بچ کے نہیں جاسکتا ۔ اسے اٹھا کر لایا جاتا ہے اور جرم کے بارے میں مزید گفتگو مجرم اور ایجنسی کے قابل ترین افسران کے درمیان آمنے سامنے بیٹھ کر ہوتی ہے۔

یقین کریں ! ایجنسیاں کسی بے گناہ کو نہیں اٹھاتیں اور جو لوگ اٹھائے جاتے ہیں وہ قطعاً بے گناہ نہیں ہوتے ان کو مکمل چھان بین کے بعد اٹھایا جاتا ھے--- اگر وہ صرف "استعمال" ہوئے ہوں تو انہیں کچھ عرصے بعد وارننگ دے کر چھوڑ دیا جاتا ھے ۔ لیکن اگر وہ واقعتاً کسی ایسی سرگرمی میں ملوث ہو جو ریاست مخالف ہو تو انہیں کسی کا باپ بھی نہیں چھڑا سکتا --- ان کی لاشیں ان کے لواحقین کو مل جائیں یہی بہت ھے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎