ہیرو ہو تو ایسا! وہ وقت جب نوازشریف نے امریکیوں کو کہا جناب مجھے توکوئی اعتراض نہیں مگر ہماراائیر چیف نہیں مان رہا،ایک تاریخ ساز واقعہ

  اتوار‬‮ 20 مئی‬‮‬‮ 2018  |  20:15

نامور کالم نگار سلطان محمود عالی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔ سہیل امان جو19 مارچ2018 کو اپنی کمان کی مدت مکمل ہونے کے بعد عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ تین سال کے قلیل عرصے میں انہوں نے بے شمار کارنامے انجام دیئے ۔18 مارچ2015 کو ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ سے سہیل امان نے پاک فضائیہ کی کمان اس وقت حاصل کی جب پاکستان انتہائی کٹھن دور سے گزر رہا تھا۔ پاک فوج جس نے دہشت گرد حملوں میں شمالی وزیر ستانمیں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا کو دشواریوں کا سامنا تھا۔ عمیق غاروں

،گہری کھایوں

غاروں ،گہری کھایوں اور گھنے جنگلوں میں چھپے دشمن نے گوریلا جنگ میں مہارت حاصل کرلی تھی۔گھات لگا کر حملے کرنا پھر اپنی پوشیدہ کمین گاہوں میں چھپ جانا دہشت گردوں کا وطیرہ تھا۔ سہیل امان نے پاک فضائیہ کے سی ون تھرٹیC-130ائر ٹرانسپورٹ طیاروں پر اپنے انجینئر اور ٹیکنیشن کی مدد سے ایسے آلات نصب کرائے جو رات کے اندھیر ے میں بھی دشمن کے ٹھکانوں ،رسدگاہ اور کمین گاہوں کا پتہ چلا لیتے۔ ان آلات کی مدد سے پاک فضائیہ نے دشمن پہ ٹھیک ٹھیک حملے کئے اور پاک فوج کو بھی انکے ٹھکانے اورگھات میں بیٹھے دشمن کا پتہ بتاد یتے۔ پاک فضائیہ کی اس جدت فرازی سے جنگ کا پاسہ پلٹ گیا اور متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے باقی پسپا ہونے پہ مجبور ہو گئے۔سہیل امان نے ایف 16 طیاروں سے دشمن پہ حملوں کی خود قیادت کی اور اپنے ماتحتوں کا مورال بلند کیا اور سرخرو ہوئے۔ سہیل امان کی پاک فضائیہ کی کمان سنبھالنے سے قبل دہشت گردی کے خلاف فضائیہ کے استعمال سے متعلق کوئی لائحہ عمل یا منصوبہ بندی نہیں تھی۔ پاک فضائیہ کونئے سر ے سے فوجی دائو پیچ اور پنیترے بدل کروار کرنے کے انداز اختیار کرنے پڑے۔ سہیل امان نے اپنی آپریشنر ٹیم کو یہ کام سونپاکہ تحقیق کرکے اور اب تک آزمائے گئے حملہ کرنے کے طریقوں کا بغور مطالعہ کرکے پاک فضائیہ کو فعال بنایا جائے کہ وہ ملک کو دہشت گردی سے پاک کرسکے۔

کمان سنبھالتے ہی سہیل امان نے ایک نئے ادارے کا سنگ بنیاد رکھا جسکا نام ائر پاور سنیٹر آف ایکسلینس تجویز کیا گیا۔ اس ادارے نے دہشتگردی کیخلاف فضائیہ کے استعمال کے اپنے حربی دائو پیچ وضع کئے۔جس سے پاک فضائیہ نے نہ صرف کامیابی حاصل کر لی بلکہ دنیا بھر میںاسکی دھاک بیٹھ گئی۔ دوسرے ممالک نے پاکستان سے درخواست کی کہ پاک فضائیہ کو اپنے حاصل شدہ تجربے سے انہیں بھی مستفید کرے۔ پاکستان نے متعدد جنگی مشقوں سے انکی درخواست پہ عمل کیا۔ سہیل امان کو احساس تھا

کہ فضائی حملوں سے زمین پہ نقصانات بھی ہوتے ہیںگو اس امر کا خاص خیال رکھا گیا کہ معصوم جانیں ضائع نہ ہوں لیکن زمینی تباہ کاریوں کا ازا لہ کرنے کی خاطر سہیل امان نے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں نئے گھر، سکول ، ہسپتال اور سڑکیں تعمیر کیں۔ گمراہ نوجوانوں کو مثبت اور کارآمد زندگی گزارنے اور دہشت گردی ترک کرنے کی خاطر ایسے ٹیکنیکل ادارے قائم کئے جہاں نوجوانوں کو نئے ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں نے کامرہ پہ حملے کے دوران سی ون

تھرٹی طیاروں کو نظر انداز کرکے ہینگر میں بند فضا ئی نگرانی کرنے والے طیاروں کو تباہ کیا۔ یہ دانستہ حملہ دشمن کی ایماء پرتھا۔ ساب طیاروں کی مرمت پہ سویڈن کیحکومت جس رقم کا مطالبہ کر رہی تھی اس قیمت میں نئے طیارے آجاتے ، سہیل امان نے اپنے انجینئر اور ٹیکیشن کو آمادہ کیا کہ وہ اس نیک کام کا بیٹرا اٹھائیں الحمد اللہ ایک چوتھائی خرچ پہ دونوں طیارے دوبارہ آپریشنل ہوگئے۔ سرٹیفکیشن کا معاملہ آیا تو سویڈن نے انکا کردیا۔ پاک فضائیہ نے یہ مہارت بھی خود حاصل کرلی۔

ملک کے دفاعی نظام کو خود کفیل بنانے اور دفاع کے میدان میں اپنے پائوں پہ کھڑے ہونے کی خاطر سہیل امان نے کا مرہ میںایوی ایشن سٹی کا سنگ بنیاد رکھا جہاں طیارہ ساز فیکٹری اور ائر یونیورسٹی ہم رکاب ہوکر تحقیق کے ذریعہ جدید ہتھیار ،خود تیار کرسکیں گے۔مستقبل کے لڑاکا طیارے کی تعمیر کے کام پر خاصی پیش رفت ہو رہی ہے۔کسی بھی ملک کا مستقبل سنوار نا ہوتو اسکے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت کو عملی جامہ پہناتے ہوئے سہیل امان نے جدید سکول اور کالج قائم کئے

خاص طورپر پسماندہ علاقوں میں۔ سبیّ ، کوئٹہ ،ڈیرہ غازی میںاسکے علاوہ سہیل امان نے اساتذہ کو بیرون ملک جاکر تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا تاکہ وہ واپس آکر نئی نسلوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے ملک کا مستقبل سنواریں۔پاک فضائیہ کے ادنیٰ کارکن خاص طورپر مسیحی برادری کے افراد کے رہائشی کوارٹر ، انکی عبادت گاہیں اور کھیلوں کے میدان کو ترقی دی گئی۔ مذہبی تہواروں پہ سہیل امان خود شریک ہوتے تاکہ انکے حوصلے بلند ہوں۔امر یکہ نے پاکستان کے وزیراعظم جو اسوقت میاں نوازشریف تھے،

سے اجازت طلب کی کہ وہ پاکستان کی بالائی فضا کو اپنے جاسوسی طیاروں کی آمدورفت کیلئے استعمال کرے، نواز شریف نے سہیل امان سے رائے طلب کی تو انہوں نے انکار کردیا۔ نواز شریف نے امریکی انتظامیہ کو بتادیا کہ مجھے کوئی عذر نہیں لیکن میراائر چیف نہیں مانتا ۔امر یکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سہیل امان کے دفتر پہنچ گئے اور جدید ہتھیار اور لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی لیکن سہیل امان نے انکی آنکھوںمیں آنکھیں ڈال کر انکار کردیا۔انہیں بخوبی یاد تھا جب1960 میں پشاور کے قریب بڈھ بیرسے پرواز کرنیوالے یو ٹو امریکی جاسوس طیارے کو روسی میزائل نے ما رگرایا تھا اور پاکستان کی شامت آگئی تھی۔

سہیل امان کویقین تھاکہ امریکی طیارے چین کی جاسوسی کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ اپنے موقف پہ ڈٹے رہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ پاک فضائیہ کو کرپشن سے پاک کرنے کی کوشش میں سہیل امان نے بہت سے افسروں کو سزادی جس پر انہیں جان کیدھمکی بھی ملی لیکن وہ ڈٹے رہے۔ ہر افسر کو راہ راست پہ رکھنے اور اپنی سمت مقرر کرنے کی خاطر انہوں نے کمپاس مہیا کیا۔ الغرض وہ پاک فضائیہ کی ڈگرایسی سیٹ کرگئے ہیں کہ وہ اگر

اس پہ قائم رہی تو انشا ء اللہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کریگی۔انکے جانشین ائر چیف مارشل مجاہد انور ایک قابل افسر ہیں ۔جب وہ کیڈٹ تھے تو مجھے ان کا استاد ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسالپور سے فارغ التحصیل ہوتے وقت انہوں نے اعلیٰ کا کردگی پہ اعزازی شمشیر حاصل کی تھی اور بہترین پائلٹ کی ٹرافی۔ آپ ایک اعلی ہواباز، بہترین ایڈمنسٹر یڑ اور نیک دل انسان ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ پاک فضائیہ کومزید کا میابیوں سے ہمکنار کرائیں گے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎