زلزلے اور قدرتی آفات کیوں آتی ہیں ؟ 

  پیر‬‮ 19 فروری‬‮ 2018  |  12:25

حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب فرماتے ہیں : ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہی ہوتا ہے، اس لیے یہ سوال کہ زلزلہ کون لایا ہے؟ بظاہر غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن مجھے اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ بعض دانش وروں کی طرف سے کھلے بندوں یہ کہا جارہا ہے اس زلزلہ کو اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے تنبیہ یا سزا سمجھنے کی بجائے فطری قوانین اور نیچرل سورسز کی کارروائی سمجھا جائے کہ ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور نیچرل سورسز کے

حوالے سے یہ معمول کی کارروائی ہے۔ ایک ممتاز دانش ور نے ایک بڑی قومی اخبار میں یہ بات تحریر کی تو میں نے انہیں خط لکھا کہ اگر فطری قوانین خود مختار اور خود کار ہیں تو اسے کسی حد تک قبول کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر فطری قوانین اور نیچرل سورسز کے پیچھے کوئی کنٹرولر اور نگران موجود ہے تو یہ بات درست قرار نہیں پاتی، میرا مطلب یہ تھا کہ مغرب کے بہت سے حلقوں کے نزدیک یہ سادہ اور فطری قوانین ہی کائنات کی اصل قوت محرکہ ہیں اور ان کے پیچھے کسی ذات کے وجود کو وہ تسلیم نہیں کرتے، مگر ہم اللہ اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات پر ایمان کھتے ہیں، اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کائنات کا کوئی پتہ بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کرتا، اس لیے ہم اس سب کچھ کو نیچرل سورسز کے کھاتے میں ڈال کر مطمئن نہیں بیٹھ سکتے ۔ ان محترم دانش ور نے اپنے کالم میں میرے اس خط کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا کہ نیچرل سورسز "فیڈ" کیے ہوئے پروگرام پر چلتے ہیں، میں نے گزارش کی کہ اس جواب سے بھی بات نہیں بن رہی، اس لیے کہ "فیڈ" کرنے والا پروگرام کو فیڈ کرنے کے بعد نہ تو بے اختیار ہوگیا ہے

اور نہ ہی نیچرل سورسز کی کارروائی سے بے خبر، بلکہ سب کچھ اس کے علم اور مرضی کے مطابق ہورہا ہے، اس لیے یہ بات تو عقیدہ کے طور پر بہرحال تسلیم کرنا ہوگی کہ جو کچھ ہوا ہے اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے ہوا ہے اور اس کے علم اور حکم کے مطابق ہوا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ زلزلے،سیلاب طوفان اور دیگر آفتیں کیوں آتی ہیں؟ ظاہر ہے کہ ان کے کچھ ظاہری اسباب بھی ہوں گے، ہمارے سائنسدان اور ماہرین ان اسباب کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی نشاندہی بھی کرتے ہیں اور ہمیں ان میں سے کسی بھی بات سے انکار نہیں ہے اور اسباب کے درجے میں ہم معقول بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے گزشتہ اقوام پر آنے والی ان آفتوں،زلزلوں،آندھیوں، طوفانوں،وباؤں اور سیلابوں کا ذکر ان اقوام پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کہ اظہار کے طور پر کیا ہے، ان قدرتی آفتوں کو ان قوموں کے لیے سبحانہ وتعالی کا عذاب قرار دیا ہے اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناب سرور کائنات صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے قیامت سے پہلے اپنی امت میں آنے والی قدرتی آفتوں کا پیش گوئی کے طور پر تذکرہ فرمایا

ہے اور اللہ اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے سزا یا تنبیہ کے طور پر ذکر کیا یے ، ان میں سے دو چار احادیث کا ذکر کرنا چاہوں گا ۔

ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نَبِئ كَرِيم صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم نیکی کا حکم ضرور دیتے رہنا، لوگوں کو برائی‌ سے ضرور منع کرتے رہنا اور ظلم کرنے والے کا ہاتھ پکڑ کر اسے ظلم سے ضرور روکنا ورنہ اللہ اللہ سبحانہ وتعالی تمہارے دلوں کو ایک دوسرے پر ماردے گا اور تم پر اسی طرح لعنت کرے گا جیسا کہ پہلی امتوں پر کی تھی۔

ترمذی شریف میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نَبِئ كَرِيم صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا سبحانہ وتعالی کی قسم تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ضرور سر انجام دیتے رہنا، ورنہ تم پر اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف سے عذاب نازل ہوگا، پھر تم دعائیں کرو گے تو تمہاری دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی ۔ ابن ماجہ شریف میں حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت یہ کہ جناب نَبِئ كَرِيم صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا میری امت میں بعض لوگ شراب پی رہے ہوں اور اس کا نام انہوں نے کچھ اور رکھا ہوگا، مردوں ک سروں پر گانے کے آلات بج رہے ہوں گے اور گانے والیاں گا رہی ہوں گی کہ اللہ سبحانہ وتعالی انہیں زمین میں دھنسادے گا اور ان میں سے کچھ کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردے گا

بخاری شریف میں ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک موقع پر جناب نَبِئ كَرِيم صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے امت کے کسی حصے پر آنے والے عمومی عذاب کا ذکر فرمایا تو ام المومنین نے سوال کیا کہ کیا نیک لوگوں کی موجودگی میں ایسا ہوگا ؟ ننَبِئ كَرِيم صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ! جب خباثتوں کی کثرت ہوجائے گی تو ایسا ہی ہوگا (خطبات راشدی جلد 1 صفحہ 109)

اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا کریں کہ ہم سب کی اصلاح کی توفیق عطا فرماے, اے اللہ جو زندگی گناہوں میں کٹ گئی ہے اے اللہ اس پر معاف فرما، اور جو قدم اچھائی اور نیکی کی طرف لے جائیں ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما ، ﺍﮮ الله کریم ہم ﮔﻤﺮﺍﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁ ۔ ﺍﮮ الله ﮨﻤﯿﮟﺑﻬﯽ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻟﮯ ﺟﻨﻬﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ, اے اللہ ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے, اللہ عزوجل ہمیں رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما, یا ذوالجلال والاکرام یاالله ! ہماری دعائیں اپنی شان کے مطابق قبول فرما۔ بِرَحْمَتِكَ يَآ أَرْحَمَ الرَّحِمِينَ آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎