عشق میں حساب کیسا؟

  جمعرات‬‮ 15 فروری‬‮ 2018  |  11:39

ایک دن مولانا روم ؒ کچھ سامان خریدنے بازار تشریف لے گئے سامان خریدتے خریدتے وہ ایک دوکان پر پہنچے تو دیکھا کہ ان سے پہلے ایک خاتون سودا خریدنے میں مصروف ہے اور دوکاندار اس عورت سے بہت الفت کا اظہار کر رہا ہے سودا خریدنے کے بعد عورت نے دوکان دار سے سودے کی رقم پوچھی تو دوکاندار نے جواب دیا کہ "عشق میں پیسے کہاں ہوتے ہیں اس لیے پیسوں کی بات چھوڑو اور جاؤ"جب مولانا روم ؒ نے دوکاندار کی یہ بات سنی تو

بے ہوش ہو کر گر پڑے دونوں نے جب

مولانا روم ؒ کو ایسے بے ہوش ہوتا دیکھا تو گھبرا گئے اور وہ عورت جلدی سے سودا لے کر چلی گئی اور دوکان دار بھی گھبرایا ہوا مولانا رومؒ کے پاس آیا اور انھیں ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا کچھ دیر بعد جب مولانا رومؒ کو ہوش آیا تو دوکاندار نے پوچھا کہ حضرت آپ کس وجہ سے بے ہوش ہوئے تو مولانا روم ؒ نے جواب دیا " میں اس بات پر بے ہوش ہوا کہ تم میں اور اس عورت میں عشق اتنا قوی اور مضبوط ہے کہ کہ دونوں میں کوئی حساب کتاب نہیں ، جبکہ اﷲکے ساتھ میرا عشق اتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں"۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎