ادب

  پیر‬‮ 12 فروری‬‮ 2018  |  14:49

اورنگ زیب عالمگیربڑا مشہور مغل شہنشاہ گزرا ہے‘ اس نے ہندوستان پر تقریباً 50 سال حکومت کی تھی۔ ایک دفعہ ایک ایرانی شہزادہ اسے ملنے کے لئے آیا۔ بادشاہ نے اسے رات کو سلانے کا بندوبست اس کمرے میں کرایا جو اس کی اپنی خوابگاہ سے منسلک تھا۔ان دونوں کمروں کے باہر بادشاہ کا ایک بہت مقرب حبشی خدمت گزار ڈیوٹی پر تھا۔ اس کا نام محمد حسن تھا اور بادشاہ اسے ہمیشہ محمد حسن ہی کہا کرتا تھا۔

اس رات نصف شب کے بعد بادشاہ نے آواز دی”حسن“۔ نوکر نے لبیک کہا اور ایک لوٹا پانی

سے بھرکر بادشاہ کے پاس رکھا اور خود واپس باہر آگیا۔ ایرانی شہزادہ بادشاہ کی آواز سن کر بیدار ہوگیا تھا اور اس نے نوکر کو پانی کا لوٹا لیے ہوئے بادشاہ کے کمرے میں جاتے دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ نوکر لوٹا اندر رکھ کر باہر واپس آگیا ہے۔ اسے کچھ فکر لاحق ہوگئی کہ بادشاہ نے تو نوکر کو آواز دی تھی اور نوکر پانی کا لوٹا اس کے پاس رکھ کر واپس چلا گیا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟

صبح ہوئی‘ شہزادے نے محمد حسن سے پوچھا کہ رات والا کیا معاملہ ہے؟ مجھے تو خطرہ تھا کہ بادشاہ دن نکلنے پر تمہیں قتل کرادے گا کیونکہ تم نے بادشاہ کے کسی حکم کا انتظار کرنے کی بجائے لوٹا پانی سے بھر کر رکھ دیا اور خود چلے گئے۔

نوکر نے کہا:”عالی جاہ !ہمارے بادشاہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی بغیر وضو نہیں لیتے۔ جب انہوں نے مجھے حسن کہہ کر پکارا تو میں سمجھ گیا کہ ان کا وضو نہیں ہے ورنہ یہ مجھے ”محمد حسن“ کہہ کر پکارتے‘ اس لیے میں نے پانی کا لوٹا رکھ دیا تاکہ وہ وضوکرلیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎