موت کے ڈر سے جینا کیوں چھوڑیں۔۔؟

  پیر‬‮ 12 فروری‬‮ 2018  |  14:41

ایک تاجر کسی سفر میں ایک بحری جہاز پہ سوار ہوا تو کپتان سے بات چیت شروع ہو گئی اور باتوں باتوں میں اس سے پوچھا کہ آپ کے والد صاحب کیا کام کرتے تھے؟ کپتان نے بتایا کہ اسکے والد صاحب بھی یہی کام کرتے تھے اور وہ بھی اسی جہاز کے کپتان تھے۔ بلکہ ہماری تو سات پیڑھیاں یہی کم کرتی آئی ہیں۔تاجر نے پوچھا کے آپ کے والدکی قبر کہاں ہے؟ کپتان نے بتایا کہ وہ جہاز کو سپین لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں طوفان نے آ گھیرا۔ انہوں نے باقی مسافروں

کو تو دوسری کشتی میں سوار کر کے بچا لیا لیکن خو د جہاز سمیت ڈوب گئے۔تاجر نے افسوس کر ک کچھ دیر بعد پوچھا آپ کے دادا کیسے فوت ہوئے؟ کپتان نے کہا اسی طرح جہاز کے ڈوبنے سے۔تاجر نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرناک کام میں آپ کے باپ دادا جان سے چلے گئے تو حیرت اس بات پہ ہے کہ آپ نے آخر اسے کیوں اختیار کیا؟ اس کے بعد کپتان نے کافی ساری اور باتیں کی اور پھر تاجر سے پوچھا کہ آپ کے والد صاحب کس دکان

میں بیٹھا کرتے تھے؟تاجر نے جواب دیا جہاں میں بیٹھتا ہوں۔ پھر کپتان نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کے دادا ابو کس مکان میں فوت ہوئے تھے؟ تاجر نے بتایا کہ اسی مکان میں جہاں میں رہتا ہوں۔ تب کپتان نے کہا کہ جب آپ اسی مکان میں رہ سکتے جہاں آپ ک دادا جان فوت ہوئے، اسی دکان پہ بیٹھ سکتے جہاں آپ کے والد صاحن بیٹھا کرتے تھے اور وہیں فوت ہوئے۔ تو میں کیوں وہ کام نہیں کر سکتا جو میرے باپ دادا کرتے تھے؟موت اور زندگی اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کی جتنی زندگی اس نے لکھی ہے اتنا ہی جینا ہے اسے۔ اور موت تو اٹل ہے۔ جہاں لکھی ہے وہاں آنی ہے ۔ تو ہم کیوں موت کے ڈر سے سب کام کاج یا جینا ہی چھور دیں۔۔۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎