لیکن حقیقت ۔۔

  پیر‬‮ 12 فروری‬‮ 2018  |  13:47

کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رہاتھا‘ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا‘ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی‘وہ اس کی طرف بڑھا چلا گیا‘ وہ بھی مسکرا رہی تھی‘ میرے ساتھ گھر چلو گی ؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ہو لی‘وہ فضاو¿ں میں اڑنے لگا‘چوہدری کا ڈیرہ آباد تھا‘ دوست احباب کے مجمع میں نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے ہوئے تھے‘چوہدری جی!! چوہدری جی!! اس کا خادم ص ڈیرے میں ہانپتا کانپتا داخل ہوا‘خیر توہے ؟ خیر توہے ؟او جی خیر کہاں!! میں چوک میں کھڑا تھا‘ نورے جٹ کا

جوان لڑکاایک ایسی حسینہ کے ساتھ گزر کے گھر جارہا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی ‘ نامعلوم کہاں سے لے کر آیاہے‘ چاند کا ٹکڑا ہے‘ چوہدری جی‘اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کہاں بٹھاو¿ں‘آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا‘

اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا‘ واقعی جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے‘اسے کچھ شور کی آواز آرہی تھی جو اور قریب آگئی‘ پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا‘دروازہ کھلا‘چوہدری ھکا بکا رہ گیا اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا‘نوجوان جٹ ایک آہنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ہو گیا‘تم میری لاش پر سے گزر کر ہی اس تک پہنچ پاو¿ گے‘تم اس کے قابل نہیں‘ نہ یہ گھر اس کے قابل ہے‘یہ میری حویلی میں رہے گی‘ نوکرانیاں‘ راحت‘ آرام اسے وہاں ملے گی‘نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا‘عدالت پورے جوبن پر تھی‘ سائل‘ مدعی‘ وکلا‘ءاہلکاراورعملہ سب موجود تھے‘ جج صاحب اپنی مسند ِخاص پر رونق افروزتھے‘جج صاحب نے نظر اٹھائی‘ اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آرہا تھا‘ اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا‘ واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھی‘جج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال‘ اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں‘ میرے پاس مال و دولت ہے‘ عہدہ ہے‘ بنگلے ہیں‘ گاڑیاں ہیں ‘نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ہے‘ یہ میرے لائق ہے‘ چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو ‘نہیں‘ چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا‘ نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں‘ اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے‘ بادشاہ کے پاس چلو‘ جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے۔

دربار سجا ہوا تھا‘ وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا‘ اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا ‘دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے‘ بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا‘ ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاو¿ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاو¿‘ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا‘ تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے‘ وہ حسینہ جو اب تک خاموش تھی‘

اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی‘ تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی ‘یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی۔لمحے وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے‘ وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی‘ بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے‘جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں چوہدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک‘ اب وہ تھی اور نوجوان تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چیخ بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی۔

آئو میرے عاشقو میرے پیچھے آو¿ تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پاسکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی‘ اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎