گرنہیں ہے گوہردانائی تیرے ہاتھ میں

  پیر‬‮ 12 فروری‬‮ 2018  |  12:52

روایت ہے کہ مصر کی ایک دور افتادہ بستی میں ایک فقیر رہا کرتا تھا‘ وہ کسی سے بات چیت نہیں کرتا تھا اور اس کی خاموشی سے لوگوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کوئی بہت پہنچا ہوا بزرگ ہے‘ سو اس خیال کے تحت لوگ اس کی عقیدت میں اس کے گرد جمع رہا کرتے‘ ایک دن اس گدڑی پوش فقیر کے دل میں نجانے کیا خیال آیا کہ وہ سچ مچ اپنے آپ کو صاحب کشف سمجھنے لگا اور اسی زعم میں اس نے سوچا کہ کیوں نا میں ان لوگوں پر اپنے کمال

ظاہر کروں اگر میں یونہی خاموشی کے سمندر میں غرق رہا تو ان لوگوں کو کیسے معلوم ہو گا کہ میں کتنا عالم فاضل بزرگ ہوں۔

اس خیال کا آنا تھا کہ اس نے اپنے قفل خاموشی کھولے اور اپنے عقیدت مندوں سے کلام شروع کر دیا‘ اب یہیں سے لوگوں پر یہ بھید کھلنا شروع ہو گیا کہ وہ اپنے خیالوں میں اسے جو کچھ سمجھ رہے تھے وہ تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے کیونکہ وہ فقیر حقیقت میں عالم تو تھا ہی نہیں لیکن خاموشی کے حصار میں اس کی جہالت چھپی پڑی تھی جیسے ہی یہ حصار ٹوٹا لوگوں کی عقیدت کا بت بھی پاش پاش ہو گیا۔ حضرت سعدی ؒ فرماتے ہیں ”اے عقلمند! تیرے لئے خاموشی میں ہی عافیت ہے‘ یہ ایک ایسا ہنر ہے جو جاہل کے عیوب کو دنیا کی نظر سے چھپا دیتا ہے بس یہ ضروری ہے کہ بلاضرورت بات چیت سے پرہیز کیا جائے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎