سٹیو جابز

  منگل‬‮ 6 فروری‬‮ 2018  |  15:16

سٹیو جابز کو کون نہیں جانتا؟ ایپل کا فاؤنڈر ۔ ایپل وہ کمپنی جس کے آئی فون ہاتھ میں لے کر ہم اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں ۔ دنیا کا سب سے زیادہ بکنے والا فون آئی فون ہی ہے۔ سٹیوو جابز نے ایپل کی بنیاد ۱۹۷۶ میں رکھی تھی۔ ایپل دنیا بھر میں بہت مشہور اور معروف تھی اور اس کے فون اور لیپ ٹاپ ہر آرٹسٹ کی پہلی ترجیح ہوا کرتے تھے۔ ایسے میں سٹیوو سے ایک غلطی ہو گئی اور اس نے ایک ایسا پراڈکٹ بنایا جو مارکٹ میں بالکل نہ چل پایا۔

یہ۱۹۸۵ کی بات ہے، اس کی اپنی کمپنی نے اسے ٹیم سے خارج کر دیا۔ پوری دنیا اس بات سے

واقف تھی، بجائے اس کے کہ سٹیوو جابز بیٹھ کر اپنے اوپر ترس کھاتا یا اپنی قسمت اور رسوائی کے رونے روتا اس نے ایک نئی کمپنی کی بنیاد ڈال دی۔ اس نے اپنی نئی کمپنی ’نیکسٹ‘ کا آغاز کیا اور اس پر بے انتہا محنت کی۔ اس نے مڑ کر کبھی ایپل کی طرف نہیں دیکھا اور اس کی محنت رنگ لائی، ایپل جب ۱۹۹۷ میں ناکامیوں پر ناکامیوں کا سامنا کر رہی تھی تو انہوں نے سٹیوو جابز کی نئی کمپنی نیکسٹ کو کال کیا اور اس کے ساتھ مرجر کر لیا۔ سٹیوو جابز کو اس کی پرانی جاب واپس دے دی اور اس کے بعد سٹیوو نے آئی فون، آئی پیڈ اور آئی پاڈ جیسے پراڈکٹ بنائے اور مارکٹ میں لانچ کیے۔ آج بچے بچے کے ہاتھ میں آئی پیڈ ہوتا ہے اور ہر آدمی آئی فون لے

کر پھرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔یہ سب سٹیوو جابز کی انتھک محنت اور مستقل مزاجی کے باعث ممکن ہوا ہے۔ سٹیوو کے مزاج کے بارے میں بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی کمپنی کی بات کو دل پر نہیں لیا تھا اور اس نے اپنے فیل پراڈکٹ کی پوری پوری ذمہ داری قبول کر کے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ جب اس کی کمپنی نے اس کو دوبارہ جاب آفر کی تو اس نے ناک منہ چڑھاکر ان کو کو انکار نہیں کیا بلکہ یہ سوچا کہ اس کا ذاتی فائدہ اور پوری کمپنی کا فائدہ کس چیز میں ہے۔ انسان جب صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ پوری ٹیم کا سوچ کر چلتا ہے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے۔ کوشش کریں کہ سب کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلیں۔

 آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔

کامیابی

ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے سارے عقلمند اور دانا لوگ اکٹھے کئے اور اُن سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ ایک ایسا نصاب ترتیب دو جس سے میرے ملک کے نوجوانوں کو کامیابی کے اصولوں کا پتہ چل جائے، میں ہر نوجوان کو اُسکی منزل کا کامیاب شخص دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ دانا لوگ مہینوں سر جوڑ کر بیٹھے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ کر بادشاہ کے پاس لائے۔ کتاب اپنے آپ میں ایک خزانہ تھی جس میں کامیابی کیلئے اصول و ضابطے، حکمت و دانائی کی باتیں، کامیاب لوگوں کے تجربات و قصے اور آپ بیتیاں و جگ بیتیاں درج تھیں۔ بادشاہ نے کتاب  دیکھتے ہی واپس لوٹا دی کہ یہ کتاب نوجوانوں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، جاؤ اور اسے مختصر کر کے لاؤ۔

یہ دانا لوگ کتاب کو ہزاروں صفحات سے مختصر کر کے سینکڑوں صفحات میں بنا کر لائے تو بھی بادشاہ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ لوگ دوبارہ کتاب کو سینکڑوں صفحات سے مختصر کر کے بیسیوں صفحات پر بنا کر لائے تو بھی بادشاہ کا جواب انکار میں ہی تھا۔ بادشاہ نے اپنی بات دہراتے ہوئے اُن لوگوں سے کہا کہ تمہارے یہ قصے کہانیاں اور تجارب نوجوانوں کو کامیابی کے اصول نہیں سکھا پائیں گے۔

آخر کار مہینوں کی محنت اور کوششوں سے مملکت کے دانا لوگ صرف ایک جملے میں کامیابی کے سارے اصول بیان کرنے میں کامیاب ہوئے کہ:جان لو کہ بغیر محنت کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی۔پس اس جملے کو کامیابی کا سنہری اصول قرار دیدیا گیا۔ اور طے پایا کہ یہی اصول ہی ہمت اور جذبے کے ساتھ کسی کو کامیابی کے ساتھ منزل کی طرف گامزن رکھ سکتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎