شیطان اور پیپل کا درخت

  منگل‬‮ 6 فروری‬‮ 2018  |  12:22

کسی گاؤں میں ايک بڑا پیپل کا درخت تھا لوگ اس سے بے شمار فائدے اٹھاتے تھے، درخت کی چھال  سے دوائیں بناتے اور شہر جاکر  بیچتے جس سے انہیں بہت نفع ملتا یہاں تک انہوں نے اس درخت کی پوجا پاٹ شروع کردی، اب يہ درخت شرک کا مرکز بن چکا تھا۔ وقت یوں ہی تیز رفتاری سے گزرہا تھا کہ ايک نيک شخص اس گاؤں ميں آکر رہنے لگے، انہوں نے لوگوں کو اس درخت کی پوجا کرتے ديکھا تو آگ بگولہ ہوگئے۔

شرک کا پرچار دیکھ کر ان کي آنکھوں میں خون اتر آیا،

غصے سے بے قابو ہوگئے، پھر غصے کي حالت ميں گھر گئے اور گھر سے کلہاڑی اٹھائی اور اس درخت کو کاٹنے کيلئے گھر سے روانہ ہوئے، ابھی وہ راستے ہی میں تھے کہ اچانک شیطان کے روپ ميں ظاہر ہوا اور کہا۔ جناب کدھر جا رہے ہیں؟ اس نیک شخص نے کہا کہ لوگ ايک درخت کو پوجنے لگے ہیں جو شرک ہے، اب اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں۔ شیطان نہ کہا آپ واپس چلے جائیں اور اپنے کام سے کام رکھیں۔ يہ سن کروہ بھڑک اٹھے اور کہا نہیں نہیں میں ہرگز ايسا نہیں ہونے دوں گا اور میں اس درخت کو کاٹ کر ہی واپس جاؤں گا، اگرمیں یہاں سے واپس چلا گيا تو اللہ تعالی کے سامنے کيا جواب دونگا، ميں تو اسے ضرور کاٹوں گا تاکہ شرک جڑ ہی سے ختم ہوجائے۔

شیطان نے بہت تکرار کی مگر وہ نہ ماننے والے تھے نہ مانے، چنانچہ دونوں میں لڑائی ہوگئی، کچھ دیر بعد انہوں نے شيطان کو زیر کرلیا۔ شيطان نے اب دوسری چال چلی، اس نے کہا اگر تم اس کام کو چھوڑ دو تو ميں اس کے بدلے تمہیں ہر روز چار تولے سونا دونگا، اگر يہ سودا منظور ہے تو بتاؤ؟ شيطان کی يہ چال کامیاب ھوئی، کچھ سوچ کر انہوں نے کہا یہ سونا روزانہ تم مجھ تک ضرور پہنچایا کرنا ورنہ میں درخت کاٹ دونگا۔ شیطان نہ کہا ہاں حضرت آپ کو یہ سونا ہر روز صبح سویرے آپ کے بستر کے نیچے سے مل جائے گا۔ کچھ روز تک یہ چار تولہ سونا اس نیک شخص کو ملتا رہا لیکن ايک روز سونا نہيں ملا انہيں بہت غصہ آیا، پھر کلہاڑی اٹھائی اور درخت کو کاٹنے کی غرض سے نکلے، راستے ميں شیطان پھر ملا اور پوچھا۔ حضرت کہاں جارہے ہيں؟ انہوں نے جواب ديا اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں کيونکہ تم نہ چار تولہ سونا دينا بند کرديا ہے۔

شیطان نے درخت کاٹے سے منع کیا، لیکن وہ نہ مانے پھر دونوں کے درمیان لڑائی ہوگئی اب کی بار شیطان کو فتح حاصل ہوئی، وہ بہت حیران ہوئے شيطان سے پوچھا پہلے تو میں نے تمہیں ہرا دیا تھا اور اب کی بار تم نے مجھے کیسے ہرادیا؟ شیطان نے مسکراتے ہوئے کہا مياں پہلے تو جو درخت کاٹنے جارہے تھے اس وقت تمہارا مقصد صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی تھا، اس وقت تمہاری نیت نیک اور صاف تھی، ليکن اب تمہاری نیت ميں فرق آگیا ہے اور ميرے بہکاوے میں آگئے ہو۔ اس بار تم مجھ سے اس لئے مات کھاگئے کہ اب تمہارا ارادہ درخت کاٹنا نہیں بلکہ چار تولہ سونا حاصل کرنا ہے، اب تم واپس چلے جاؤ ورنہ تمہاری گردن تن سے جدا کردوں گا۔يہ سن کر نہایت شرمندگی کی حالت ميں انہیں واپس لوٹنا پڑا۔ دوستو۔۔۔۔ آپ کي نیت صیح ہوگی تو آپ ہر کام میں کامياب ہوں گے اگر نیت بری ہے تو پھر وہ ہی ہوگا جو اس شخص کے ساتھ ہوا۔ دوستو۔۔۔۔۔۔ نیت ہی عمل کی روح ہے جس قدر نيت اللہ تعالی کيلئے خالص ہوگی اسی قدر اللہ تعالی کی مدد اور انعامات زيادہ ہونگے۔ ہميں بھی چاہئيے جو بھی کام کریں خالص اللہ تعالی کو راضی کرنے کے جذبے سے کريں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎