ناکامی کا شکنجہ

  منگل‬‮ 6 فروری‬‮ 2018  |  10:14

حوصلے کی کمی بہت سوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔ کہنے والے ایک حکایت بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاح چھٹیاں گزارنے ہندوستان آیا تو اس نے ایک جگہ چند ہاتھی بندھے دیکھے۔ ہاتھیوں کے پیروں میں معمولی سی زنجیریں بندھی تھیں اور وہ انہیں بآسانی توڑ کر فرار ہو سکتے تھے۔ لیکن وہ ایسی کوئی کوشش نہیں کر رہے تھے۔سیاح نے حیران ہو کر مہاوت سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ اتنے سارے ہاتھی موجود ہیں،لیکن ایک بھی زنجیر توڑ کر آزاد ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

مہاوت مسکرایا اور بولا کہ جب

ہم انہیں سدھانا شروع کرتے ہیں تو یہ چھوٹے بچے ہوتے ہیں، اور یہ زنجیر توڑنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ وہ کوششیں کرتے ہیں اور ناکام ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں کہ یہ زنجیر توڑنا ان کے بس سے باہر ہے۔ پھر یہ خود تو بڑے اور طاقتور ہو جاتے ہیں لیکن زنجیر کو توڑنا اپنی طاقت سے باہر جانتے ہیں۔سیاح دنگ رہ گیا۔ حوصلے کی کمی نے کیسے ان شہزوروں کو غلام بنایا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسا کام کرنے کو ناممکن جانتے تھے جو ان کے لیے نہایت آسان تھا۔انسانوں کا بھی یہی ماجرا ہوتا ہے۔ وہ بہت سے کاموں کو مشکل جان کر کوشش ہی نہیں کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے بس میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ زندگی بھر ناکامی کے شکنجے میں پھنسے رہتے ہیں۔

انتہا

اس کے گھر کوئی مہمان وارد ہوا‘اس کنجوس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ آدھا کلو عمدہ گوشت لیتے آو۔ بیٹا گیا باہر اور کافی دیر بعد خالی ہاتھ لوٹا‘باپ نے پوچھا گوشت کہاں ہے ؟بیٹا‘ میں قصائی کے پاس گیا اور کہا کہ جو سب سے عمدہ گوشت ہے تمہارے پاس‘ وہ دی دو۔قصائی نے کہا میں تمہیں ایسا گوشت دوں گا گویا کہ مکھن ہو‘تو میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو مکھن ہی لے لوں۔

تو میں بقال کے پاس گیا اور کہا جو سب سے عمدہ مکھن ہے تمہارے پاس وہ دیدو‘بقال نے کہا میں تمہیں ایسا مکھن دوں گا گویا کہ شہد ہو۔تو میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو شہد ہی خرید لوں تو میں شہد والے کے پاس گیا اور کہا جو سب سے عمدہ شہد ہے تمہارے پاس وہ دے دو‘تو شہد والے نے کہا میں تمہیں ایسا شہد دوں گا گویا کہ بالکل صاف شفاف پانی ہو۔

تو میں نے سوچا اگر یہی قصہ ہے تو پانی تو ہے ہی گھر میں موجود۔اس لئے میں خالی ھاتھ واپس آ گیا‘باپ : واہ بیٹے یہ تم نے بہت شاطرانہ عقل لڑائی لیکن ایک نقصان کر دیا۔وہ یہ کہ ایک دکان سے دوسری دکان جانے میں تمہاری چپل گھس گئی ہوگی‘بیٹا: نہیں ابا جان میں بھی آپ ہی کی اولاد ہوں‘ میں اپنی چپل تھوڑی پہن کر گیا تھا‘ میں تو مہمان کی چپل پہن کر گیا تھا۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎