ٹماٹر

  پیر‬‮ 5 فروری‬‮ 2018  |  15:51

عدالت کتنی سٹرانگ ہوتی ہے اس کا اندازا آپ ٹماٹر سے لگالیجئے۔ ٹماٹر10مارچ 1893ءتک پوری دنیا میں فروٹ تھا۔ سپریم کورٹ کا ایک حکم آیا اور ٹماٹر پوری زندگی کیلئے سبزی بن گیا۔ اس دلچسپ کیس کی بیک گراﺅنڈ کچھ یوں ہے کہ اٹھارہ سو تراسی میں امریکن کانگریس نے ٹریف ایکٹ 1883ءجاری کیا۔ اس ایکٹ کے تحت حکومت نے امریکا درآمد ہونے والی تمام سبزیوں پر دس فیصد ڈیوٹی لگا دی‘ اس وقت جان ڈبلیو نکس نام کا ایک تاجر لیٹن امریکا سے سبزیاں اور فروٹ نیویارک درآمد کرتا تھا‘وہ ٹماٹر بھی منگواتا تھا‘ ایک دن کسی

بات پر اس کا نیویارک پورٹ کے ٹیکس کلیکٹر ایڈورڈ ہڈن کے ساتھ جھگڑا ہو گیا۔ ہڈن نے انتقاماًاس کے ٹماٹر کو

سبزی ڈکلیئر کر دیا اوراس پر دس فیصد ڈیوٹی لگا دی۔ نکس ہڈن کےخلاف عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا‘ نکس کا کیس تقریباً دس سال تک چھوٹی عدالتوں میں چلتا رہاوہاں سے یہ کیس 24اپریل 1893ءمیں سپریم کورٹ پہنچا‘اس وقت مل ویل فولر امریکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے‘ چیف جسٹس نے جان نکس اور ایڈورڈ ہڈن دونوں کو طلب کر لیا۔ ایڈورڈ ہڈن سے پوچھا گیا ”تم بتاﺅ تم ٹماٹر کو سبزی کیوں کہہ رہے ہو“ ہڈن نے جواب دیا ”جناب عالی ٹماٹر سبزیوں میں پیدا ہوتا ہے“ جان نکس سے پوچھا گیا

”اور تم اسے فروٹ کیوں کہہ رہے ہو“ جان نکس نے عدالت میں ان تمام ڈکشنریوں اور انسائےکلو پیڈیاز کا ڈھیر لگا دیا جن میں ٹماٹر کو پھل قرار دیا گیا تھا۔ جان نکس نے بوٹینیکل رپورٹ بھی پیش کر دی۔ نباتاتی یعنی بوٹینکلی ٹماٹر واقعی پھل تھا۔ عدالت نے یہ دلچسپ کیس سنا اور آخر میں ٹماٹر کو سبزی ڈکلیئر کر دیا۔ یہ کیس جس وقت عدالت میں زیر سماعت تھا اس وقت اٹارنی جنرل نے ٹریف ایکٹ 1883کو پوری طرح ڈیفنڈ کرنے کی کوشش کی لیکن عدالت نے ٹماٹر کو پھل کی جگہ سبزی کا سٹیٹس دے دیا ۔ آج ٹماٹر بوٹینکلی یا سائنسی لحاظ سے پھل ہے لیکن یہ آج پوری دنیا میں سبزی سمجھا جاتا ہے‘کیوں؟ کیونکہ عدالت نے اسے سبزی قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ عدالت کی سپرمیسی کو ثابت کرتا ہے اور پکار پکار کر اعلان کرتا ہے پارلیمنٹ ہو‘ وزیراعظم ہو‘ صدر ہو یا پھر خلیفہ وقت ہو‘ یہ سب لوگ‘ یہ ادارے قانون اور عدالت کے سامنے کمزور ہوتے ہیں۔

دن کی بہتر ین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس کے فیس بک پیج پر سینڈ میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎