Android AppiOS App

ریاکاری

  پیر‬‮ 5 فروری‬‮ 2018  |  15:49

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک ریاکار شخص جو صرف دنیا کو دکھانے کے لئے نیکیاں کرتا تھا۔ایک دن بادشاہ کا مہمان ہوا۔اس نے بادشاہ پر اپنی بزرگی کا رعب ڈالنے کے لئے بالکل تھوڑا سا کھانا کھایا لیکن نماز میں کافی وقت لگایا ۔جب یہ شخص بادشاہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تو آتے ہی کھانا طلب کیا۔

اس کے بیٹے نے کہا کیا آپ نے بادشاہ کے ساتھ کھانا نہیں کھایا تھا؟اس نے کہا ،وہاں میں نے اس خیال سے کم کھایا تھا کہ بادشاہ کو میری پر ہیز گاری کا اعتبار آجائے اور اس کے دل میں میری عزت زیادہ ہو۔بیٹے نے کہا ،پھر تو آپ نماز بھی دوبارہ پڑھیں کیونکہ وہ بھی آپ نے بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے ہی

پڑھی تھی۔

نیرو کو پرانے گھروں‘ گندے اور بدبودار لوگوں اور بدصورت چہروں سے نفرت تھی جبکہ اس وقت روم بدصورت چہروں‘ بدبودار لوگوں اور پرانے بوسیدہ گھروں کا مرکز تھا۔ نیرو نے اس کا بڑا دلچسپ حل نکالا‘ وہ اپنی عزیز ترین ملکہ پوپیا کو لے کر محل کی چھت پر بیٹھ گیا‘ اس نے سازندے اور رقاصائیں بلوائیں‘ محفل سجانے کا حکم دیا اور اپنی فوج کو روم کے قدیم حصے کو آگ لگانے کا حکم دے دیا‘ روم کو آگ لگتے دیر نہ لگی۔ روم کے مشرقی کونے سے دھوئیں‘ آگ اور انسانی چیخوں کے مرغولے اٹھے تو نیرو کے اندر کے انسان نے سسکنا شروع کر دیا

اس کے سنگ دل ضمیر پر دستک ہونے لگی‘ اس نے فوراً دائیں بائیں دیکھا‘ اس کے سامنے ایک سازندہ بانسری بجا رہا تھا‘ نیرو نے اس سے بانسری چھینی اور اس کے سوراخ پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے‘ بانسری کے سینے سے ہوک اٹھی اور روم کی ساری چیخیں اس ہوک میں دب گئیں۔ روم جلتا رہا اور نیرو بانسری بجاتا رہا تھا یہاں تک کہ روم جل جل کر تھک گیا اور نیرو بانسری بجا بجا کر بے حال ہو گیا۔ لوگوں نے جب بادشاہ کی بے حالی دیکھی تو وہ شیر ہو گئے اور انہوں نے آنکھیں کھول کر محل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا‘ نیرو نے لوگوں کو ہر طرح ”کمپن سیٹ“ کرنے کی کوشش کی‘ متاثرین کو امداد اور پلاٹ دئیے‘ شہر کے سوختہ حصے کی از سر نو تعمیر شروع کر دی

بے گھر لوگوں کو شہر کے نئے حصوں میں سیٹل کر دیا‘ انقلاب پسندوں میں زمینیں اور جائیدادیں تقسیم کیں لیکن انقلاب اور آندھی دنیا کی ایسی بلائیں ہوتی ہیں جو اگر ایک بار بیدار ہو جائیں تو یہ اپنا دائرہ‘ اپنا سرکل مکمل کئے بغیر نہیں رکتیں چنانچہ نیرو کے گرد بھی دائرہ تنگ ہونے لگا۔لوگوں نے محل پر حملے شروع کر دئیے‘ اس کے محل پر حملہ ہوا تو فوج نے غیر جانبداری کا اعلان کر دیا۔

نیرو نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا تو اس کے تمام دوستوں نے آنکھیں موند لیں۔ نیرو نے اپنی عزیز ترین بیگم پوپیا کی طرف دیکھا لیکن وہ اس وقت فیس پاﺅڈر (یاد رہے خواتین کیلئے فیس پاﺅڈر پوپیا نے ایجاد کیا تھا) ایجاد کرنے میں مصروف تھی‘ نیرو بے بس ہو گیا چنانچہ اس نے اپنے غلام کو ساتھ لیا اور محل سے بھاگ کھڑا ہوا‘ اس نے محل سے جونہی قدم باہر رکھا تو اسے معلوم ہوا پوری دنیا میں اس کیلئے کوئی ٹھکانہ نہیں

اس نے غلام کی طرف ملتجی نظروں سے دیکھا‘ غلام اسے اپنے کزن کے چھوٹے سے گھر میں لے گیا‘ بادشاہ گھر میں داخل ہوا تواس کا سر بدبو سے پھٹنے لگا‘ اس نے غلام سے شکایت کی” یہاں پر تو بہت بدبو ہے“ غلام نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ”جناب عالی جن بادشاہوں کے محل سونے اور چاندی کے ہوتے ہیں

ان کے عوام کے گھروں سے ایسی بو آتی ہے“ بادشاہ خاموش ہوگیا‘ وہ اپنے انجام کے بارے میں پریشان تھا‘ اس نے اسی پریشانی کے عالم میں غلام سے پوچھا ”کیا میرے بچنے کی کوئی گنجائش موجود ہے“ غلام نے چند لمحے سوچا‘ قہقہہ لگایا اور اسکے بعد تاریخی جواب دیا۔ غلام نے کہا تھا ”بادشاہ سلامت تبدیلی کا پہیہ کبھی درمیان میں نہیں رکتا‘ یہ اپنا چکر پورا کر کے رہتا ہے‘ آپ کیلئے بہتر ہو گا آپ تقدیر سے بھاگنا بند کر دیں‘ آپ اپنے آپ کو وقت کے حوالے کردیں“۔

کامیابی کےلئے صرف پانچ عادتیں انسان کوکامیاب زندگی کیلئے زیادہ لمبے چوڑے اصولوں اور کسی وسیع چارٹر کی ضرورت نہیں ہوتی ‘اسے کامیابی کیلئے بس پانچ عادتیں درکارہوتی ہیں اس کا ارادہ مضبوط اور اٹل ہو---یہ تمام لوگوں کو پسند کرے لیکن اعتماد کسی ایک پر کرے----کسی کی تقلید نہ کرے لیکن تمام لوگوں سے سیکھے مستقل مزاج ہو-----فرشتوں کے اخلاص سے محنت کرے-----آپ یہ پانچ عادتیںاپنا لیں دنیا کی کوئی طاقت اسے کامیابی کی چوٹی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

مستقل مزاجی مستقل مزاجی ایسی نعمت ہے جو پانی کی دھار کو تیشہ بنا دیتی ہے اور یہ تیشہ پتھر کا جگر پھاڑ دیتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی میں صرف ارادے اور مستقل مزاجی کا فرق ہوتا ہے‘ مستقل مزاج لوگوں کا قد کاٹھ خواہ چیونٹی کے برابر ہی کیوں نہ ہو یہ چلتے چلتے بالآخرپہاڑ کی چوٹی تک پہنچ جاتے ہیں اور غیرمستقل مزاج لوگ خواہ ہاتھیوں سے بڑے ہی کیوں نہ ہوں یہ مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎