مال، محبت اور کامیابی

  پیر‬‮ 5 فروری‬‮ 2018  |  11:44

 ایک عورت کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا ، عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں ان بزرگوں نے پوچھا : کیا گھر کا مالک موجود ہے ؟------عورت کہنے لگی : نہیں ، وہ گھر پر موجود نہیں انہوں نے جواب دیا : پھر تو ہم اندر نہیں جائیں گے----رات کو جب خاوند گھر آیا تو

عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی---------وہ کہنے لگا : انہیں

اندر لے کر آؤ !۔عورت اُن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا !۔-----انہوں نے جواب دیا : ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے-------عورت نے پوچھا : وہ کیوں ؟---ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی :۔------اس کا نام ''مال'' ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا ، اور اس کا نام '' کامیابی '' ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا ،اور میرا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاؤ اپنے خاوند کے پاس جاؤ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے ؟ عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا ،وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا : اگر یہی معاملہ ہے تو ''مال '' کو اندر بلا لیتے ہیں گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی !۔

عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا : کیوں نہ ''کامیابی'' کو دعوت دیں ؟ میاں بیوی کی یہ باتیں اُن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی،اُس نے جلدی سے اپنی رائے دی :۔ کیوں نہ ہم ''محبت'' کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت سے بھر جائے !۔-------خاوند کہنے لگا : بہو کی نصیحت مان لیتے ہیں ،جاؤ اور ''محبت'' کو اندر لے آؤ-------عورت باہر آئی اور بولی :آپ میں سے ''محبت ''کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے، عورت حیران و پریشان اُن کا منہ دیکھنے لگی۔

عورت نے '' مال '' اور ''کامیابی'' سے کہا ؛ میں نے تو صرف ''محبت'' کو دعوت دی تھی،آپ دونوں کیوں ساتھ جا رہے ہیں ؟ دونوں نے جواب دیا :اگر تم نے '' مال '' یا '' کامیابی '' میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ '' محبت '' کو بلایا ہے یہ جہاں ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں ، جہاں '' محبت '' ہو گی وہاں '' مال '' اور '' کامیابی'' بھی ملیں گے خلاصہ کلام :۔ اپنے دل میں اور اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کے دلوں میں محبت پیدا کیجئے،آپ ایک کامیاب شخصیت کے مالک بن جائیں گے یاد رکھئے : اگر آپ'' محبت '' کے ساتھ دوسروں سے پیش آئیں تو آپ کی مثال اس چراغ کی سی ہے جس کے گرد لوگ اندھیرے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں !۔

 آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔

آئسکریم

ایک دن میرا موڈ بنا تو میں نے بچوں کو لیا اور ان کو ایک ریسٹورنٹ میں لے گئی، سوچا کہ لنچ بھی ادھر کر لیں گے اور بعد میں ان کو آئسکریم بھی کھلا دوں گی۔ ہم نے جب لنچ ختم کر لیا تو میں نے اپنے بچوں سے پوچھا کہ ابھی کھانے کے بعد سب کی طرف سے اللہ کا شکر کون ادا کرے گا، میرے چھے سال کے بیٹے نے بولا کہ ماما میں کرتا ہوں۔ وہ بولا: یا اللہ تو بہت اچھا ہے، تو بہت قوی ہے، تیرا لاکھ لاکھ شکر تو نے ہمیں کھانے کو اتنا اچھا سب کچھ دیا اب اگر تو تھوڑی سی آئس کریم بھی دے دے تو کیا ہی بات ہو۔ میرے بیٹے کی یہ دعا سن کر ارد گرد بیٹھے باقی لوگ ہنس پڑے ۔ اتنے میں ایک بوڑھی آنٹی چڑ کر بولیں: توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے، ماؤں نے بچوں کی کیسی تربیت شروع کر دی ہے کہ عجیب وغریب دعائیں کرتے ہیں، دعا کرنے کا سلیقہ بھی نہیں سکھاتیں۔ اللہ خیر کرے بس آخری وقت میں ہیے دیکھنا رہ گیا تھا۔

بچہ یہ سن کر بہت دلبرداشتہ ہوا اور رونے لگ گیا اس نے میرے سے پوچھا: ماما میں نے غلط دعا کی ہے کیا، یہ آنٹی ایسے کیوں بول رہیں ہیں؟ اللہ میرے سے ناراض ہو گیا ہے کیا؟ مجھے اس عورت پر شدیدغصہ آیا لیکن میں چپ رہی۔ اتنے میں ایک بوڑھے سے انکل میرے بیٹے کے پاس آئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے بیٹا آپ کی دعا اللہ کو بہت پسند آئی ہے۔ انہوں نے خود مجھے بتایا ہے۔ میرا بیٹا پھر سے قہقہے لگانے لگا۔ انکل بولے کہ خدا نے بتایا ہے کہ تھوڑی سی آئس کریم آپ کی روح کے لیے اچھی غذا ہوتی ہے۔ ہم سب ہنسنے لگ گئے۔ میں نے اپنے سارے بچوں کو آئس کریم لے کر دی اور ہم سب کھا رہے تھے کہ میں نے دیکھا کہ میرا وہی بچہ تھوڑی سی آئسکریم کھا کر باقی سنڈے اسی بوڑھی عورت کے پاس لے کر جا رہا ہے۔

اس نے بولا: آنٹی سوری میں نے آپ سے پہلے نہیں پوچھا، آپ کو پتہ ہے کہ آئسکریم روح کے لیے اچھی غذا ہے، میں نے تو تھوڑی سی کھا لی ہے اب میری روح اچھی ہو گئی ہے، باقی آپ کھا لیں پلیز تو آپ کی روح بھی اچھی ہو جائے گی۔ بچے ہمیشہ وہ بات بولتے ہیں جوبات ان کے دل میں ہوتی ہے، اس میں کچھ ملاوٹ نہیں ہوتی، کوئی بناوٹ نہیں ہوتی۔ جو جی میں آیا، جھٹ سے کہہ دیا۔ بچوں کی سب سے اچھی عادت یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی عداوت یا کدورت دل میں نہیں رکھتے، لڑائی ہوتے ہی خوب مارتے ہیں یا خوب مار کھاتے ہیں اور اگلے دن اسی دوست کے ساتھ کسی اور مشغلے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس فارمیلیٹی کے دور میں اپنے آپ کو سادہ رکھے، جو اصل ہوتا ہے وہ دکھاوے پر یقین نہیں رکھتا، چاہے دکھاوہ سادگی کا ہو، مسلمانی کا ہو، امارت کا ہو یہ قابلیت کا ہو، ہر طرح کا دکھاوہ غلط ہے اور دوسروں کو غلط امیدوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کہتے ہیں اگر تم یہ بھی دکھا دو کہ تم میں کچھ بھی نہیں ہے، اور لوگ بعد میں وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ جائیں کہ تم میں کیا کچھ ہے، تو وہ تمہاری دل سے عزت کرتے ہیں اور آج کل کا عجیب دور ہے، ہر طرف دوڑ ہی دوڑ ہے، پلے کچھ ہے یا نہیں، دکھانے پر سب ایسے ہیں جیسے پرنس چارلز کے گھر پیدا ہوئے ہوں۔ سب پاکستانی ہیں اور یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہم ایک تھرڈ ورلڈ کنٹری ہیں تو پھر یہ کس طرح کے کامپلیکس پال رکھے ہیں ہم سب نے۔

 آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎