چہرہ

  پیر‬‮ 29 جنوری‬‮ 2018  |  16:07

ایک دن میں صبح جلدی اٹھ گئی، گیٹ پر بیل بجی تو میں نکل کر باہر گئی تو دیکھا کہ بہت ضعیف آدمی کھڑا تھا اور اس کا چہرہ کچھ عجیب سوجا ہوا تھا۔ در اصل اس کا چہرہ کافی بھیانک لگ رہا تھا۔ اس نے بولا کہ مہربانی کر کے آج کی رات مجھے ادھر پناہ دے دیں، میں آ پ کے محلے کے بہت سے گھروں سے اپنے چہرے کی وجہ سے انکار سن چکا ہوں۔ میرا علاج چل رہا ہے اور اسی لیے میرا چہرہ اتنا بے سروپا ہو گیا ہے ۔ میرے دل میں

ہزار عجیب و غریب سوالات اٹھے اور میں نے سوچا کہ اللہ جانے یہ کوئی مجرم نہ ہو او

ر میرے بچوں کے لیے برا نہ ثابت ہو، اتنے میں اس نے بولا کہ میں ادھر پورچ میں سارا دن اور رات گزار لوں گا بس ایک کرسی دے دیں، صبح سویرے چار بجے کیی بس سے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لوں گا۔ مجھے بہت برا محسوس ہوا اور میں نے اسے اندر بلا لیا۔ میں جب دوپہر کا کھانا لگا چکی تھی تو میں نے بچوں کو آواز دی اور وہ دوڑے آئے تو مجھے اسی آدمی کا خیال آیا اور میں نے اسے بھی اندر بلا لیا۔ اس نے بولا کہ آپ کا بہت شکریہ لیکن میں اندر نہیں آرہا۔

میرے پاس اپنا کھانا ہے اور اس نے مجھے ایک خاکی لفافہ دکھایا۔ مجھے تسلی ہو گئی تو میں واپس اندر آگئی۔ شام میں میں اور میرے بچے باہر نکلے اور میں پورچ میں اس آدمی کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ایک مچھیرا ہے اور اپنے گاؤں سے ادھر صرف اپنے علاج کے لیے مہینے میں ایک دو بار آنا اس کی مجبوری تھی۔ وہ ابھی تک مچھلیاں پکڑ پکڑ کر گزر بسر کرتا تھا۔ در حقیقت اسے اپنے لیے اس امر کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کی ایک بیٹی کی شادی ایسے آدمی سے ہو گئی تھی جو معزور تھا اور جوانی میں ہی بستر سے جا لگا تھا۔ اس کے پانچ نواسے نواسیاں تھیں اور ان کا پیٹ بھرنے کے لیے وہ بیچارہ اس عمر میں بھی اتنی محنت کرتا تھا۔ خیر وہ ہر بات اس طرح شروع کرتا تھا کہ: اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔میں اس کی بھلائی سے بہت متاثر ہوئی، اللہ جانے کیوں اس نے میرے دل میں گھر کر لیا تھا اور وہ میرے بچوں کو بھی بہت اچھا لگا تھا۔ اس نے صبح چار بچے کی بس سے گاؤں کے لیے واپس روانہ ہونا تھا۔ میں اس کی ملنسار فطرت سے اتنی متاثر ہوئی تھی کہ میں نے اس کو بتایا کہ جب بھی وہ شہر علاج کے لیے آئے تو ہمارے گھر بلا تکلف ٹھہر سکتا ہے۔ اسے آئندہ کسی اور محلے والے کے پاس جا کر بے آبرو ہونے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

اس کے بعد بھی وہ پانچ چھے مہینے آکر اپنا علاج کرواتا رہا اور ہر ماہ میں دو سے تین مرتبہ شہر آتا اور ہمارا مہمان بنتا تھا۔ وہ جب بھی آتا تو دریا کی بڑی سے بڑی اور فریش ترین مچھلیاں لے کر آتا اور میں اور میرے بچے بڑے شوق سے فرائی کر کے کھاتے تھے۔ وہ جب نہیں بھی آتا تو بھی ہماری طرف اپنے کھیتوں کی سبزیاں اور مچھلیاں بجھواتا رہتا تھا۔ جب میں یہ سوچتی تھی کہ اس کے پاس اتنی قلیل رقم ہے اور وہ اتنا دور تک چل کر گاؤں سے چٹھیاں بھیجتا تھا، تو مجھے اس کے خلوص پر اور زیادہ اچھا محسوس ہوتا تھا۔ اس کے تمام تحفے میں اور میرے بچے بہت پسند کرتے تھے۔ ایک دن میری ایک پڑوسن بولی کہ وہ جو آدمی اتنا بد صورت ہے، اسے ادھر مت ٹھہرایا کرو کیونکہ اس طرح تمہارے کرائے دار شکایت کریں گے۔ جانتی نہیں ہو کہ سارا محلہ اسے رکھنے سے انکاری ہو جاتا ہے تو تم کیوں اپنے لیے مصیبت پالتی ہو۔ مجھے اس عورت پر بے حد غصہ آیا لیکن میں چپ رہی۔ ایک دن میں اپنی ایک پرانی سہیلی کے گھر گئی ہوئی تھی کہ اس کا باغ دیکھ رہی تھی۔ اس نے بہت اچھا مین ٹین کیا ہوا تھا کہ میری نظر ایک ٹیولپ کے پھول پر پڑی۔ بہت حسین تھا اور سارے باغ میں سب سے جاذب نظر تھا۔ لیکن اس نے اسے ایک گندی سی بالٹی میں لگایا ہوا تھا۔

جب میری دوست چائے لے کر آئی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے پوچھا کہ پاگل ہو کیا، سب سے پیارا پودہ اس طرح کی بالٹی میں ڈالا ہوا ہے؟ تو آگے سے بولی کہ یہ میں ابھی ابھی نرسری سے خرید کر لائی ہوں، اس کو میں ابھی سب سے اچھے گملے میں لگاؤں گی۔ ایک دم میرے دل سے ایک عجیب خیال گزرا کہ قیامت کے دن جب اللہ اس بوڑھے کو بلائے گا تو بولے گا کہ تم سب سے خوبصورت دل کے مالک تھے تو یہ لو آج میں تمہارا ظاہر تمہارے باطن کی طرح بنا رہا ہوں۔ کیانکہ اس دنیا کی زندگی تو مچھر کا پر بھی نہیں ہے، اور جیسے ہی اس باغ کا سب سے حسین پھول اپنے خالق سے ملے گا تو وہ اس کو فورا پہچان لے گا اور اس کا گملا جھٹ سے بدل دے گا۔ ایک لمحے کے لیے میرے دل میں شدید رشک نے جنم لیا کہ وہ کیسا قد آور حسین سانچہ ہو گا جو اتنے خوبصورت دل کو خود میں سموئے گا۔

آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں

ماما جی

ملتان کا ایک خواجہ سراکسی لاہوری پہلوان سے لڑ پڑا‘ لڑائی کے دوران ملتانی خواجہ سرا نے لاہوری پہلوان کو دھمکی دی ”میں تمہارے ساتھ ”خوفناک“ سلوک کروں گا“ پہلوان نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”تم خواجہ سرا ہو‘ تم میرے ساتھ ”خوفناک“ سلوک کیسے کرو گے“ خواجہ سرا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا‘ وہ رکا‘ تھوڑا سا شرمایا اور پھر ہتھیلی پر ہتھیلی رگڑ کر بولا ” میانوالی میں میرے ماما جی رہتے ہیں‘ وہ ساڑھے چھ فٹ کے کڑیل جوان ہیں‘ میں انہیں بلا ﺅں گا‘ وہ تمہارے ساتھ ”خوفناک“ سلوک کریں گے“ پہلوان نے قہقہہ لگایا‘ خواجہ سرا کی گردن پر مکا مارا‘ خواجہ سرا نالی میں گر گیا اور پہلوان سائیکل پر بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔

آپ یہ لطیفہ ملاحظہ کیجئے اور اس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیجئے‘ مجھے یقین ہے آپ خود کو وہ خواجہ سرا محسوس کریں گے جسے گالی دینے کےلئے بھی میانوالی کے ماماجی کی ضرورت پڑتی ہے‘ آپ کو محسوس ہو گا‘ ہماری خارجہ پالیسی ‘خارجہ پالیسی نہیں ‘ ماما جی پالیسی ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ملک کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجئے ‘ ہمارے ملک میں تیل کا بحران ہو جائے تو یہ بحران سعودی عرب والے ماماجی حل کریں گے‘ ہماری وزارت خزانہ کو ملک چلانے کےلئے ڈالر چاہئیں‘ یہ ڈالر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک والے ماماجی دیں گے‘ ہمارے ملک میں زلزلہ آجائے‘ سیلاب آ جائے اور خشک سالی ہوجائے‘ یہ مسئلے ترکی‘ بحرین اور یو اے ای والے ماما جی حل کریں گے‘

فوج کو اسلحہ چاہیے‘ ہم نے دہشت گردوں سے لڑنا ہے اور مسئلہ کشمیر حل کرنا ہے‘ یہ مسائل امریکا والے ماماجی حل کریں گے اور ملک کو بھارت اور امریکا سے بچانا ہے‘ ہمارا یہ مسئلہ چین والے ماما جی حل کریں گے‘ ہمارے ماماجی صرف سرحدوں سے باہر نہیں ہیں‘ ہم نے اپنی سہولت کےلئے لوکل ماماجی کا بندوبست بھی کر رکھا ہے‘ بھارت افغانستان میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے‘ یہ مسئلہ حقانی ماماجی حل کریں گے‘ مقبوضہ کشمیر میں ہمارے مفادات کا خیال سعید ماماجی رکھیں گے‘

کراچی میں ٹارگٹ کلرز سے طالبان ماماجی نبٹیں گے‘ کوئٹہ اور پارا چنار کا مسئلہ جھنگ کے ماماجی حل کریں گے اور جھنگ کے ماما جی کا مقابلہ گلگت کے ماماجی کریں گے اور مہاجر ماما جی سے سندھی ماماجی نبٹیں گے اور سندھی ماماجی سے مہاجر ماماجی جنگ کریں گے‘ فوجی ماماجی سے جمہوری ماماجی لڑیں گے اور جمہوری ماما سے لڑائی بلے والے ماماجی کریں گے اور بلے والے ماماجی سے جوڈیشل ماماجی لڑیں گے اور جوڈیشل ماما جی سے میڈیا ماماجی نبٹے گا‘ یہ ہے ہماری کل ریاست‘ ماماجی‘ ماماجی اور بس ماماجی‘ بھانجے کیا کریں گے‘بھانجے صرف ہتھیلی رگڑیں گے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎