ڈبہ دیکھنے میں خالی مگر دنیا کی سب سے قیمتی چیز اسی میں بھری ہوئی تھی

  جمعہ‬‮ 26 جنوری‬‮ 2018  |  15:55

کرسمس کے دن تھے، ایک آدمی نے کرسمس کی رات اپنی بیٹی کو دیکھا تو وہ ایک خالی ڈبے پر گولڈن رنگ کا ریپنگ پیپر چڑھا رہی تھی۔ باپ کے مالی حالات کچھ دنوں سے نازک تھے ایک دم شدید غصے میں آگیا اور اپنی بیٹی کو ڈانٹ دیا کہ یہ کیا بیوقوفی ہے ایسے ہی شیٹ ضائع کر دی۔ بیٹی نے چپ چاپ ڈانٹ سن لی۔ صبح سویرے وہی بیٹی اپنے باپ کے پاس وہی ڈبہ لے کر آئی اور بولی کہ یہ لیں ابو آپ کا کرسمس گفٹ۔ باپ ہنسنے لگا اور اسے اپنی رات کی

حرکت پر پشیمانی ہوئی۔لڑکی نے ڈبہ باپ کو دیا، اس نے ڈبہ کھولا تو خالی تھا۔

وہ پھر آگ بگولہ ہو گیا کہ شاید میرے ساتھ اوچھا مزاق کر رہی ہے۔ لڑکی بولی ابو یہ خالی نہیں ہے۔ اس میں میں نے رات کو آپ کے لیے بہت سے کسز بھرے ہیں ۔ باپ ہنسنے لگا اور رات کی حرکت کے لیے اپنی چھوٹی سی بچی سے معذرت کر لی۔ کچھ دن بعد اتفاق سے اسی بچی کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی۔ آج بھی اس کا باپ وہ گولڈن ڈبہ اپنے سرہانے رکھ کے سوتا ہے اور جب کسی بات سے پریشان ہوتا ہے اسی ڈبے کو اٹھاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس میں میری پیاری سی بیٹی کے کسز آج بھی بھرے ہوئے ہیں اور وہ ہمیشہ مجھ سے پیار کرتی رہے گی۔

سچ تو یہ ہے کہ پیار میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اتنی کہ اس کا اندازہ کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ہر انسان کو یہ گولڈن ڈبہ ملا ہوا ہے اس کے ماں باپ، اس کے شوہر، بیوی ، بچوں اورخاص کر اللہ کی صورت بس ہم اس بات پر توجہ نہیں دیتے۔ ورنہ ہر انسان دراصل پیار کا بھوکا ہے اور خداوند نے اس کے لیے یہ پیاس بجھانے کے واسطے ہی رشتے ناتے ترتیب دیے ہیں۔ یہ ناتے انمول ہیں اور ان کو دنیا کی ساری مال و دولت لٹا کر بھی خریدہ نہیں جا سکتا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎