قبر کھلی تھی

  جمعہ‬‮ 26 جنوری‬‮ 2018  |  11:55

قبر کھلی تھی‘ میں چلتے چلتے رک گیا اور اندر جھانکنے لگا‘ اندر کا منظرانتہائی وحشت ناک تھا‘ کفن کو دیمک چاٹ گئی تھی ‘ گوشت کو کیڑے کھا گئے جبکہ ہڈیاں آدھی آدھی مٹی میں دفن تھیں۔ میں نے گورکن کی تلاش میں نظر دوڑائی‘ دور بیری کے نیچے چارپائی تھی اور چارپائی پر بوڑھا گورکن حقہ پی رہاتھا۔ میں اس کے پاس چلا گیا اور قبر کی خستہ حالی کا شکوہ کیا‘ اس نے سر ہلایا‘ اپنی پگڑی کی گرہیں کھولیں‘ پگڑی دوبارہ باندھی اور کپکپاتی آواز میں بولا ”جناب قبر کی سیلیں ٹوٹ گئی ہیں‘

style="text-align: right;">ہم مٹی ڈالتے رہتے ہیں لیکن بارش ہوتی ہے توقبر دوبارہ کھل جاتی ہے“ میں نے پوچھا ”تم قبر پر سیلیں کیوں نہیں ڈال دیتے“ بوڑھے نے حقے کا لمبا کش لیا اور مزدوروں کی عاجزی سے بولا ”قبر کے لواحقین نہیں ہیں‘ سیلیں مول ملتی ہیں‘ میں کہاں سے خرید کر لاﺅں گا“میں نے پوچھا ”لواحقین کہاں چلے گئے“ بوڑھے نے گنوار عورتوں کی طرح ہوا میں ہاتھ نچایا اور کھوئے ہوئے انداز میں بولا ”پتہ نہیں‘ پچھلے تیس سال سے اس قبر پر کوئی نہیں آیا“ میں نے پوچھا ”اور تیس سال پہلے“ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھا‘ سوچنے والی شکل بنائی اور بولا ”مجھے تیس سال پہلے کا علم نہیں کیونکہ میں یہاں تیس سال پہلے آیا تھا“

میں نے پوچھا ”سیلیں کتنے کی آتی ہیں“ اس نے میری طرف غور سے دیکھا اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”میں سلوں‘ قبر کی مرمت اور ایک سال تک مٹی ڈالنے کے بارہ سو روپے لوں گا“ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ پندرہ سو روپے نکالے‘ اس کے ہاتھ میں پکڑائے اور اس سے کہا ”تم آج ہی اس قبر کی مرمت کر دو“ اس نے نوٹ فوراً مٹھی میں دبا لئے اور میری طرف دیکھ کر بولا ”آپ کی اس مردے کے ساتھ کوئی عزیزداری ہے“ میں نے ہاں میں سر ہلایا اور اس سے کہا ”ہاں ہر قبر اور ہر قبر کا مردہ تمام زندہ لوگوں کا عزیز ہوتا ہے“ اس نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا لیکن میں قبرستان سے باہر آ گیا۔

ہم پتہ نہیں کیوں بھول جاتے ہیں ہمارا ٹھکانہ چھ بائی دو فٹ کی ایک قبر ہوتی ہے اور تیس برس بعد ہماری ننگی ہڈیوں کو ڈھانپنے کیلئے بارہ سو روپے کی خیرات درکار ہوتی ہے اور ہمارے لواحقین میں کوئی ایسا شخص نہیں بچتا جو ہماری قبر پر بارہ سو روپے خرچ کر سکے۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎