Android AppiOS App

 ٹافیاں بیچنے سے

  ہفتہ‬‮ 20 جنوری‬‮ 2018  |  12:19

والد کی کاروبار میں ناکامیوں کے باعث اس کا بچپن غربت میں گزرا‘گھریلو مسائل کے باعث اس نے کئی سکول بدلے اور وہ چوتھی جماعت سے آگے نہ بڑھ سکا‘19 برس کی عمر میں اس نے اپنی ماں اور خالہ کی مدد سے ایک ٹافی کی کمپنی کھولی لیکن وہ کمپنی بری طرح ناکام ہو گئی اورکچھ عرصے بعد ہر وہ بینک کرپٹ ہو گیا‘اس نے ایک اور ٹافی کی دکان کھولی لیکن اسے ایک بار پھر ناکامی کا سامنا ہوا‘ان کے خاندان نے اسے ناکام اور غیرذمہ دار شخص قرار دے دیالیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنا کام جاریرکھا‘

اس نے ٹھیلے پر ٹافی بیچنے کا عمل شروع کیا جس میں اسے تھوڑی تھوڑی کامیابی ملنا شروع ہوگئی‘جب اس کا کاروبار تھوڑا پھیلنے لگا

تو اس نے ایک کمپنی کرامل کے نام سے بنائی‘ جب کاروبار بڑھا تو اس نے کرامل کمپنی بیچ دی‘اس کا خواب تھا کہ کبھی وہ اپنی چاکلیٹ کی کمپنی بنائے‘ اس خواب کی تکمیل کےلئے اس نے ہرشے چاکلیٹ کمپنی کی بنیاد رکھی اور اس کو کامیاب بنانے کےلئے

اس نے دن رات ایک کر دیئے‘جی ہاں یہ شخص ملٹن ہرشے تھا‘ ملٹن ہرشے کےلئے چاکلیٹ کمپنی صرف کاروبار نہیں تھابلکہ وہ پورا ایک شہر تھا‘ہرشے نے یتیم بچوں کےلئے سکول‘ ہسپتال اور کھیل کی جگہ بنائی‘اپنے ملازمین کےلئے گھر بنانے کے منصوبے فراہم کئے‘ اپنی آمدن کا زیادہ حصہ فلاحی کاموں میں خرچ کیا‘ہرشے نے فوجیوں کےلئے زیادہ دن تک خراب نہ ہونے والی چاکلیٹ بنانے کا طریقہ بھی دریافت کیا‘ہرشے جب 1945ءمیں فوت ہوا تو وہ اس وقت10 بلین ڈالر کے اثاثوں کا مالک تھا‘ ہرشے کی جدوجہد سبق ہے ان لوگوں کےلئے جو ایک آدھ ناکامی کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں‘ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہمت نہیں ہارنی چاہیے‘خوابوں پر یقین اور لگاتار کوشش ہی کامیابی دلاتی ہ۔

دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎