Android AppiOS App

اگر منافع دینا ہی ہے تو اپنے پاکستانی بھائئ کو دیں

  جمعرات‬‮ 18 جنوری‬‮ 2018  |  12:56

میں پچھلے ۱۰ دن کی روٹین کےمطابق عشاء پڑھ کر مسجد سے اسکے ساتھ ہو لیا ہمیشہ کیطرح ہم باتیں کرتےکچھ دُور واقع ملواری کی گروسری شاپ پہ پہنچے ۔ اسنےروز کیطرح فرج سے دُودھ کی بوتل نکالی ۔ کاؤنٹر پہ سکے رکھ کر دکان سے نکلنے ہی والے تھے کہ ملواری کی آواز نے قدم روک دئے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ قیمت بڑھ گئی ہے ۵۰ فلس اور دینے ہونگے ۔ میرے دوست نے کوئ بحث نہیں کی خاموشی سے بوتل واپس فرج میں رکھی اپنے سکے اٹھائے اور واپسی کی راہ لی۔ میں بھی سدھائے ہوئےبندر کی طرح ساتھ ساتھ تھا۔ ہم دونوں واپس مسجد کے بالکل بغل میں واقع ایک پاکستانی کی شاپ پر آگئے وہاں سے اس نے وہی بوتل خریدی ۔ پیسے دئے اور

ہم پارک کی جانب چل دئے ۔ میں باہر نکلتے ہی اسے بولنے لگاکیونکہ میں اسے پیسے دیتے دیکھ لیا تھا ۔ میرا کہنا تھا کہ وہ ملواری بھی تو اتنے کی ہی دے رہا تھا ناں پھر اس سے کیوں نئیں لی وہ مسکرانے لگا مجھے اور بھی غصہ آیا اس سے پہلے میں کچھ اور بولتا اسنے بولنا شروع کر دیا ۔

کہنے لگا "میں ۱۰ دن پہلے تک اسی پاکستانی سٹور سے روزانہ یہ بوتل خریدتا تھا ۔ ۱۰ دن پہلے اسنے قیمت بڑھا دی تو میں اس ملواری سے لینے لگاکیوں کہ مجھے لگا یہ بندہ ناجائز منافع خوری کر رہا ہے ۔ لیکن آج اسنے بھی بڑھا دی میں واپس اپنے پرانے دکاندار پاس آگیا ۔ کہ اگر منافع دینا ہی ہے تو اپنے پاکستانی بھائ کو دیں وہ یہاں سے کمائے گا پاکستان بھیجے گا تو اپنے ملک کو بھی فائدہ ہوگا ۔میں لاجواب سا ہو گیا میں اتنے چھوٹے لیول پہ اتنی حب الوطنی پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ فورا ہی میری نظروں میں پاکستان کے حکمرانوں کی چہرے گھوم گئے ۔ میں سوچا اگر حکمران میرےاس دوست کا ۱۰ فیصد بھی پاکستانی ہو جائیں تو ملک کہاں سے کہاں پہنچ جائے۔ دن کی بہترین پوسٹ پڑھنے کے لئے لائف ٹپس فیس بک پیج پر میسج بٹن پر کلک کریں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎