تمہاری لاعلمی

  جمعرات‬‮ 18 جنوری‬‮ 2018  |  12:46

حجاج بن یوسف کہیں جارہا تھا‘ ماہ رمضان کا مہینہ تھا لیکن حجاج بغیر روزے کے تھا‘ دوپہر کا وقت ہوا تو اس کےلئے کھاناآگیا ‘ اس نے اپنے ملازم کو کہا کہ اگر کوئی مسافر یہاں موجود ہے تو اسے بلا لاﺅ۔ اس کا ملازم باہر بھاگتا ہوا گیا اور ایک بدو کو پکڑ کر لے آیا‘

حجاج نے اسے کھانے کی دعوت دی تو وہ کہنے لگا کہ میں آج اللہ کی دعوت سے لطف اندوز ہورہا ہوں یعنی اس نے مجھے روزہ رکھنے کی دعوت دی اور میں نے قبول کرلی۔حجاج اسے کہنے لگا

کہ آج کا دن تو سخت گرم ہے‘ اتنی گرمی میں تم سے برداشت نہیں ہوگی لہٰذا بہتر ہے کہ افطار کر لو‘بدوکہنے لگا”اتنا گرم نہیں جتنا یوم محشر ہوگا“حجاج نے اس پر اسے کہا کہ کوئی بات نہیں‘ بہت گنجائش ہے تم آج افطار کرکے عید کے بعد گنتی پوری کرسکتے ہو‘ اس میں کیا حرج ہے‘بدو نے جواب دیا ”کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ میں عید کے بعد تک زندہ رہوں گا“حجاج نے بدو کا جب یہ جواب سنا تو بولا‘اللہ تمہیں سلامت رکھے تمہاری لاعلمی میرے علم سے ہزار درجے بہتر ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎