اصلیت

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  12:39

بادشاہ اپنے وزیر اور سیاہیوں کے ساتھ سیر وشکار کےلئے نکلا‘ شکار کا پیچھا کرتے ہوئے وہ اپنے لشکریوں سے بچھڑ گیا‘ ایک جگہ پر ایک اندھا فقیر بیٹھا تھا‘ اس کے پاس کوتوال (تھانے دار‘ سپاہیوں کا سردار) گزرا تو کہا او بڈھے فقیر یہاں سے کوئی آدمی تو نہیں گزرا‘اس نے کہا نہیں‘

تھوڑی دیر بعد وزیر گزرا اور پوچھ بابا یہاں سے کوئی آدمی تو نہیں گزرا‘ پھر بادشاہ گزرا تو اس نے پوچھا باباجی یہاں سے کوئی آدمی تو نہیں گزرا‘ بوڑھے نے کہا بادشاہ سلامت پہلے یہاں سے تھانے گزرا ہے‘ پھر

وزیر گزرا ہے‘ بادشاہ حیران رہ گیا اور کہاں باباجی آپ تو نابینا ہیں‘ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ ایک کوتوال ہے اور ایک وزیر ہے اور میں بادشاہ ہوں‘ فقیر نے کہا‘ الفاظ سے پتہ چلا اور میں نے بصیرت سے سمجھ لیا کہ یہ الفاظ کس کے ہیں‘ کوتوال نے کہا اوبڈھے‘ وزیر نے کہا بابا اور آپ نے کہا بابا جی‘ الفاظ آدمی کی اصلیت کا پتہ دیتے ہیں‘ اچھی عادات اور اچھے اخلاق اچھے خاندان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

 آج کی بہترین پوسٹس پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎