کامیابی کا راز

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  11:44

ایک نوجوان نے سقراط سے پوچھا کہ کامیبابی کا راز کیا ہے۔سقراط نے کہا کہ علی الصباح دریا کے کنارے ملنا۔ دونوں جب دریا کنارے علی الصباح ملے تو سقراط نے نوجوان سے کہا کہ میرے ساتھ دریا میں کچھ دور چلو، جب دونوں کندھے تک گہرے پانی میں پہنچ گئے تو سقراط نے اچانک نوجوان کو سر سے پکڑا اور اسے پوری طاقت لگا کر ڈبونے کی کوشش کی۔ نوجوان کیونکہ اس بات کے لیے تیار نہ تھا اسلیے زیادہ مزا

حمت نا کر پایا اور قریب تھا کہ نوجوان کا سانس رک جاتا، سقراط نے اس

نوجوان کو چھوڑ دیا اور وہ نوجوان پانی سے سر نکال کر گہرے سانس لینے لگا۔سقراط نے نوجوان سے پوچھا ‘‘جب تم سر سمیت پورے کے پورے پانی کے اندر تھے اور باہر نکلنے پر اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے تو وہ کون سی اہم ترین بات تھی جو تمہارے زہن، دماغ اور دل میں آرہی تھی۔

اس نوجوان نے کہا ‘‘ہوا اور سانس ‘‘ کہ وہ چیزیں تھیں جو میرے لیے قیمتی ترین تھیں جن سے میری جان بچنے کی امید تھی۔سقراط نے کہا ‘‘ میاں یہ ہے کامیابی کا راز کہ جب تمہیں کامیابی کی اتنی شدید ضرورت ہو جتنی تمہیں زندگی بچانے کے لیے ہوا کی ضرورت تھی اور وہ کامیابی تمہیں مل جائے تو پھر تمہیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ اور جس طرح تم زندگی بچانے کے لیے ہوا کی اہمیت اب سمجھ گئے ہو اس طرح اچھی زندگی گزارنے کے لیے اگر کامیابی کی اتنی ہی شدت سے کوشش کرو جتنی جان بچانے کے لیے ہوا کھینچنے کے لیے کر رہے تھے تو یاد رکھنا کہ وہ کامیابی تمہارے لئے بڑی قیمتی ہونی چاہیے دنیا میں اس سے بڑا کامیابی کا راز کوئی اور نہیں ہے‘‘۔

سٹیون سپیل برگ

سٹیون سپیل برگ ہالی ووڈ کا سب سے نامور ڈائریکٹر ہے اور اس نے تین آسکرز حاصل کر رکھے ہیں جو کہ دنیا کے کسی اور ڈائریکٹر کا کارنامہ نہیں ہے۔ اس کی سب سے مشہور فلموں میں جراسک پارک، جاز، کیچ می اف یو کین اور بہت سی اور بھی فلمیں شامل ہیں۔ سٹیون سپیلبرگ نے پچھلی چار دہائیوں میں ستائیس فلمیں بنائیں ہیں اور دو آسکرز تو اس نے بہترین ڈائریکٹر ہی کے حاصل کیے ہیں۔ ایک سکرین پلے کے لیے بھی جیتا، کل تین آسکرز حاصل کرنے کا ریکارڈ صرف سٹیون نے دنیا میں بنایا ہے۔اس کی کل ستائیس فلموں کا منافع اگر جمع کیا جائے تو $8.5 billion بنتا ہے اور آج کی دنیا میں سٹیون سپیل برگ کی اپنی ورتھ $3 billion. سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے بعد ہاتھ بھی نہ ہلائے تو اس کی اگلی دس نسلیں بھی بغیر کوئی کام کاج کیے پر آسائش زندگی بسر کر سکتی ہیں۔ یہ باتیں تو ساری دنیا پہلے سے جانتی ہے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا کہ سٹیوون نے بہت مشکل وقت بھی دیکھا اور اس نے بھی ناکامی کا چہرہ بہت قریب سے دیکھا تھا۔ سٹیون بچپن سے کیمروں کی طرف کشش محسوس کرتا تھا اور اس نے یہ ٹھان رکھا تھا کہ ڈائریکٹر ہی بننا ہے لیکن وہ پڑھائی میں بہت ہونہار نہیں تھا ۔ وہ یونیورسٹی آف ساؤتھرن کیلیفورنیا میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔

اس یونیورسٹی کو یو ایس سی بھی کہتے ہیں۔ وہ یو ایس سی کے سینیمیٹک آرٹس کے ڈپارٹمنٹ میں پڑھنا چاہتا تھا لیکن میرٹ پرپورا نہیں اتر تا تھا۔ اس کا رزلٹ اگریگیٹ گریڈ ’سی‘ تھا اور اس وجہ سے تین سال لگا تار کوشش کے با وجود وہ یو ایس سی کے ایکٹنگ اور ڈائریکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لینے سے قا صر رہا۔ آخر کار اس نے اپنی پسندیدہ یونیورسٹی میں چوتھی بار ایپلائی کیا اور تب بھی سینیمیٹک میں داخلہ نہ مل سکا بلکہ اس نے انگریزی کو اپنا میجر رکھ لیا۔ سٹیون نے جو پہلی فلم بنائی تھی وہ ایک چھبیس منٹ کی چھوٹی سی وڈیو تھی ’ایمبلن‘۔ جب ہالی ووڈ سٹوڈیو کی وائس چیر مین سڈنی شین برگ نے اس کی یہ مختصر سی وڈیو دیکھی تو اس نے سٹیون سپیل برگ کا ٹیلنٹ پہچان لیا اور اس کو ہالی ووڈ کے اگلے سات سال کا ایک کنٹریکٹ دے دیا۔ سٹیونسپیل برگ دنیا کا سب سے کم عمر ڈائریکٹر تھا اور آج بھی کوئی اس سے کم عمری میں کوئی اتنا طویل کنٹریکٹ سائن نہیں کر پایا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎