ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی، کچھ ہماری خبر نہیں آتی

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  10:49

استعفی' پر صاف صاف لکھا تھا "گھریلو معاملات" کی بنا پر نوکری نہیں کرسکتا۔ صاحب کہنے لگے، اسے بلا کر پوچھو کوئی اور وجہ تو نہیں ہے۔ کام سے متعلق کوئی شکایت یا مسئلہ۔چند روز بعد دفتر میں ایک لمبے قد کا، دیہاتی وضیع کا نوجوان داخل ہوا۔جی میں اپنا الوداعی انٹرویو دینے آیا ہوں۔ہم مم۔ ٹھیک ہے۔اچھا دوست آپ نے یہاں نوکری چھوڑنے وجہ "گھریلومعاملات" لکھی ہے۔ ایسی کونسی گھریلو وجہ ہے جو تمہیں لگی بندھی نوکری نہیں کرنے دے رہی؟سر! کچھ گھریلو معاملات ہیں۔ ان کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ شادی بیاہ، خوشی غمی، موت مرگ۔

سو معاملات ہیں سر۔تو تم لوگوں کے شادی بیاہ، مرض مرگ بگھتانے کے چکر میں اپنی لگی لگائی نوکری چھوڑ رہے ہو؟جی سر۔

یار لیکن یہ معاملات تو کبھی کبھی کے ہیں۔ روز کسی کی شادی تھوڑی ہوتی ہے۔ یا تمہارے رشتہ دار(اللہ نہ کرے میرے منہ میں خاک) روز تھوڑی مر رہے ہیں؟ کبھی کبھار کے معاملات ہیں۔ یہ تو نپٹ جاتے ہیں۔سر آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن صرف رشتہ دار تو نہیں ہیں۔ گاؤں برادری والے بھی ہیں

۔ تو ان کے موت مرگ پہ بھی جانا ہوتا ہے۔تو ٹھیک ہے۔ آدھی چھٹی لے جایا کرو۔ جنازہ ہی پڑھنا ہوتا ہے نا۔ں ہیں سر۔ ہم نے صرف جنازہ نہیں پڑھنا ہوتا۔ لوگوں کے سو کام کاج ہوتے ہیں۔ مہمانوں کے بیٹھنے، کھانے ، سونے کا انتظام۔ پھر قبر کی کھدائی۔ وہ بھی ہم لوگ خود کرتے ہیں۔ نرم زمین ہو تو آدھا پون گھنٹہ۔ سخت ہوتو گھنٹہ سوا گھنٹہ۔ سر آپ نہیں سمجھیں گے۔ ہمارے لیے یہ سب ضروری ہے۔ صرف نوکری اور کمانا نہیں۔ آج ہم جائیں گے تو کل کوئی ہمارے مرنے پہ بھی آئے گا نا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اجازت لے کر جا رہا تھا اور میرے پاس اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس کے الوداعی سلام کا جواب دے سکتا۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی کچھ ہماری خبر نہیں آتی

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎