پاکستانی عوام

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  10:32

سابق اشتراکی روس کے صدر جوزف سٹالن ایک مرتبہ اپنے ساتھ پارلیمنٹ میں ایک مرغا لے آیا اور سب کے سامنے اس کا ایک ایک پر نوچنے لگا‘ مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ایک ایک کر کے سٹالن نے اس کے سارے پر اتار دیئے‘ پھر مرغے کو فرش پر پھینک دیا اور جیب سے کچھ دانے نکال کر مرغے

کی طرف پھینک دیئے اور چلنے لگا‘ مرغا دانا کھاتا ہوا سٹالن کے پیچھے چلنے لگا‘ سٹالن برابر دانا پھینکتا گیا اور مرغا دانا منہ میں ڈالتا ہوا برابر اس کے پیچھے چلتا ہوا آخر کار

سٹالن کے پیروں میں آ کھڑا ہوا‘ سٹال نے اپنے کامریڈز کی طرف دیکھا اور اس بعد ایک تاریخی فقرہ بولا‘

سرمایہ دارانہ ریاستوں کے عوام اسی مرغے کی طرح ہوتے ہیں‘ ان کے حکمران پہلے عوام کا سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہج کر دیتے ہیں اور بعد میں معمولی سی خوراک دے کر خود کو انکا مسیحا بنا دیتے ہیں اور چند سکوں‘ چند نوالوں کے عوض‘ معاشی غلامی کا شکار اور اجتماعی شعور سے محروم عوام بھول جاتے ہیں کہ انہی انسان نما درندوں نے تو ہمیں چوپایوں کے درجے پر لا کھڑا کیا تھا۔سٹالن کویہ فقرہ بولتے وقت شاید ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ جو فقرہ بولنے جا رہا ہے ٹھیک پچاس سال بعد وہ فقرہ پاکستانی حکمرانوں اور پاکستانی عوام پر بالکل فٹ آئے گا۔واقعی پاکستانی عوام کی اکثریت وقت کے فرعونوں کے سامنے مرغوں جیسی ہی ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎