بنیاء اور حلوہ

  بدھ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2018  |  10:08

ایک گاؤں میں ایک بنیاء بھی رہا کرتا تھا جس کی ایک دوکان بھی تھی جہاں سے لوگ اپنی روز مرّہ کی ضروریات کا سامان لیا کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر بنئے سے قرض بھی لے لیا کرتے تھے اور پھر بنیا ان کی گردن پر سوار ہو کر انھیں سو د و بیاج میں پھنسا کر اپنی چکی میں پیستا تھا گاؤں کے عقلمند افراد تو بنئے کے ان ہتھکنڈوں سے بچ جاتے تھے سادہ لوح افراد ہی اپنی معاشی ضروریات کے باعث بنئے کے چنگل میں پھنس جاتے تھے ان میں سے ایک رحمیو کسان

بھی تھا جو اپنی کم آمدنی اور بیوی کی بے جا فرمائشوں کے باعث اکثر بنئے کا مقروض رہتا تھا رحمیو کی بیوی اپنے شوہر کی آمدنی کے بجائے اپنی فرمائشوں کا ڈول ڈالے رکھتی تھی جس کی بنا پر

رحیمو اکثر پریشان رہا کرتا تھا ایک دن رحمیو کی بیوی نے رحمیو سے فرمائش کی کہ اس کا دل حلوہ کھانے کا کر رہا ہے خدا خدا کر کے رحیمو نے بنئے کا ادھار چکایا تھابیوی کی بات سن کر رحیمو پریشان ہو گیا اور اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر رحیمو کی بیوی غصے میں آگئی اور اس سے لڑنے لگی بیوی کی لڑائی سے تنگ آکر رحمیو بنئے کی دوکان سے سامان لینے چل پڑا راستے میں اسے ایک پڑوسی ملا جس نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے رحیمو نے بتایا کہ وہ بنئے سے کچھ سامان ادھار لینے جا رہا ہے اپنے پڑوسی کو بتا کر وہ بنئے کی دوکان پر پہنچا بنئے رحیمو کی شکل دیکھ کر سمجھ گیا کہ اُسے ادھار چاہیے بنئے کو تو

رحیمو جیسے افراد کی ضرورت ہوا کرتی تھی بنئے نے فوراً مصنوعی مسکراہٹ کو سجایا اور رحیمو سے پوچھا کہ اُسے کیا چاہیے رحیمو نے اُسے حلوے کا سامان بتایا جس میں بہت سارے میوہ جات کی بھی ضرورت تھی بنئے نے کہا کہ سامان تو میں دے دو نگا مگر اصل رقم سے دوگنا دینا پڑے گا رحیمو اپنی بیوی کی چک چک سے پریشان تھا اس نے بنئے کی بات پر حامی بھر لی اور سامان لے کر اپنے گھر کی جانب چل پڑا اور سامان لا کر بیوی کے ہاتھ میں دھر دیا بیوی نے بہت سارا حلوہ بنایا اور پورے محلے میں بانٹا مفت کا حلوہ کھا کر سب نے رحیمو کی بیوی کی بہت واہ واہ کی اور رحیمو کی بیوی کے انا غباروں میں اور ہوا بھر گئی چند دن بعد بنئے نے رحیمو سے رقم کا تقاضا شروع کر دیا

رحیمو کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ بنئے کا قرض واپس کر پاتاوہ بنئے سے کچھ دن کی مزید مہلت مانگ لیتا تھا مگر جب کافی مہلتیں دینے کے باوجود بھی بنئے کی رقم کی واپسی کی کوئی شکل نا نکلی تو بنئے نے یہ معمول بنا لیا کہ وہ رحیمو کے گھر آتا اور شور شرابا کرتا رحیمو مارے شرمندگی کے پورے گاؤں میں اپنا سر جھکائے گھومتا رہتا ایک دن اسی پریشانی میں کھیتوں سے اپنے گھر کی جانب جا رہا تھا کہ اُسے اپنا وہی پڑوسی ملا پڑوسی نے کہا کہ میں اسی وقت کے لیے تمھیں سمجھاتا تھا اور پڑوسی نے اپنے جیب سے بنئے کی رقم رحیمو کو دی کہ وہ بنئے کو اُس کا ادھار واپس کر کے بے عزتی سے بچ سکے رحیمو اپنے پڑوسی کے اس عمل سے بہت خوش ہوا اور اس نے سوچ لیا کہ اب اپنی بیوی کی کوئی بے جا فرمائش پوری نہیں کرے گا۔ نفس کو کھانے کے وعدے پر ٹالنا بنئے کو پیسوں کے وعدے پر ٹالنا سے کہیں آسان کام تھا

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎