عالم، نابینا، غریب اور عاشق

  جمعرات‬‮ 11 جنوری‬‮ 2018  |  12:37

بادشاہ کے سامنے عالم، نابینا، غریب اور عاشق بیٹھے تھے۔بادشاہ نے کہا،میں آپکو شعر کا دوسرا مصرع سناتا ہوں پہلا آپکو بنانا ہوگا۔

اس لیئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں۔

عالم:بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں،اس لیئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں۔

غریب:مانگتا پیسے مصور جیب میں پائی نہیں،اس لیئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں۔

عاشق:ایک سے جب دوہوئے پھر لطف یکتائی نہیں،اس لیئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں۔

نابینا:مجھ میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں،اس لیئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎