ذہین اور خوبصورت

  جمعرات‬‮ 11 جنوری‬‮ 2018  |  11:47

جارج برناڈ شا دنیا کے عظیم رائٹرز میں شمار ہوتا تھا‘اس کا تعلق برطانیہ سے تھا اور اس نے ڈرامہ نویسی کو حقیقتاً ایک نیا رنگ دیا تھا‘ وہ ڈرامہ رائٹنگ کے ساتھ ساتھ پبلک سپیکر بھی تھا اور اس کی تقریروں نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔

وہ ایک بد صورت انسان تھا لیکن اپنے دور کا ذہین ترین انسان سمجھا جاتا تھا‘ اس میں حس مزاح بھی تھی اور اس کے بعض فقرے اور حرکتیں بعد ازاں لٹریچر کا حصہ بن گئیں۔ مثلاًاس نے ایک بار

دعویٰ کیا ”میرے ہر لفظ کی

قیمت دس پونڈ ہے“ ایک نوجوان نے اسے بیس پونڈ دئیے اور اس سے کہا ”آپ مجھے اپنے دو لفظ دے دیں“ برناڈ شا نے جیب سے قلم نکالا‘ کاغذ کا ٹکڑا لیا اور اس پر تھینک یو لکھ کر نوجوان کے حوالے کر دیا‘

ایک بار برطانیہ کی ایک انتہائی خوبصورت ایکٹریس نے برناڈ شا سے کہا ”چلو ہم دونوں شادی کر لیتے ہیں“ برناڈ شا نے پوچھا ”کیوں“ ایکٹریس نے جواب دیا ”تم ذہین ہواور میں خوبصورت‘ ہمارے بچے میری طرح خوبصورت اور تمہاری طرح ذہین ہوں گے“ برناڈ شا نے قہقہہ لگایا اور کہا ”مجھے یہ آفر قبول نہیں کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ ہمارے بچے میری طرح بدصورت اور تمہاری طرح بے وقوف نکل آئیں“۔

جیسیکا کاکس

جیسیکا کاکس ایک سپورٹس پلین پائلٹ ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جب پیدا ہوئی تھی تو اس کے بازو نہیں تھے۔ ڈاکٹر اس بات کی وجہ تشخیص نہیں کر پائے کہ اس کے بازو کیوں نہیں تھے لیکن جیسیکا کا حوصلہ بہت بلند تھا اور وہ اپنی زندگی کسی معزور انسان کی طرح گزارنے پر متفق نہ تھی۔ آج جیسیکا پچیس سال کی ہے اور ایک سپورٹس پلین پائلٹ ہے۔جیسیکا نے ارادہ کیا اور پائلٹ ٹریننگ حاصل کی۔ اس کے انسٹرکٹر نے اس کے بارے میں بولا کہ جب وہ گاڑی چلا کر ائیر پورٹ پہنچی اور میں نے دیکھا کہ وہ بازوؤں کے بغیر غاڑی چلاسکتی تھی تو میں جان گیا تھا کہ وہ کوئی بھی جہاز اڑا سکتی تھی اور جیسیکا ایک زبردست پائلٹ ہے۔

صرف اس کے انسٹرکٹر اس بات سے اتفاق نہیں رکھتے، آکسفرڈ اور کیمبرج جیسی بڑی بڑی یونیورسٹیوں نے اپنی ڈکشنری سے ’امپاسبل‘ اور ’کینٹ ‘ جیسے الفاظ خارج کر دیے ہیں کیونکہ جیسیکا جیسی عورتیں بھیاس دنیا میں اچھی بھلی زندگی بسر کر رہی ہیں۔ جیسیکا صرف اپنی ٹانگوں کی مدد سے جہاز اڑا لیتی ہے، ایک ٹانگ سے وہ سٹیرنگ کالم کو آپریٹ کرتی ہے اور دوسری ٹانگ سے کنٹرولزسنبھالتی ہے۔ وہ اپنا سپورٹس پلین فلائنگ سرٹیفیکیٹ حاصل کر چکی ہے اور کسی بھی لائٹ ویٹ سپورٹس پلین کو دس ہزار فٹ کی بلندی پر با آسانی اڑا لیتی ہے۔ ابھی اس کی تصویر دیکھیں تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی ایسی لڑکی اتنی قابل بن سکتی تھی۔ جب وہ چھوٹی تھی تو ڈاکٹرز نے سوچا کہ اس کو مصنوعی آلات لگائے جاسکتے تھے جن کو وہ بازوکے طور پر استعمال کر لیتی مگر جیسیکا نے ڈاکٹرز کو سختی سے منع کردیا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھی کی خدا نے اسکو جیسابھی بنایا ہے، وہ باقیوں سے کم صلاحیتوں کے باوجود ان کے برابر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتی تھی۔

کبھی کبھی مجھے ایسے لگتا ہے کہ نارمل انسانوں کے پاس صحت ہوتی ہے اور وہ اس کی بالکل قدر نہیں کرتے لیکن زیادہ تر جو لوگ جسمانی طور پر معزور ہوتے ہیں ان کا عزم بہت بلند ہوتا ہے اور وہ عام لوگوں کی طرح ڈپریشن یا مایوسی کا شکار نہیں ہوتے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ جیسیکا شادی شدہ ہے اور ایک خوش وخرم نارمل زندگی بسر کر رہی ہے حا لانکہ اپنے ارد گرد نظر دوڑا کر دیکھیں تو بہت سی امیر، خوبصورت اور پڑھی لکھی عورتیں گھروں میں فارغ بیٹھی ہیں لیکن ایک ایسی لڑکی جو اگر پاکستان جیسے ملک میں پیدا ہو جاتی تو ماں باپ اسے کسی سینٹر میں داخل کرا دیتے، وہ ایک بہت خود مختار زندگی گزار رہی ہے اور اس کے شوہر نے اس جیسی معزور عورت کو پسند کر کے شادی کی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ دنیا ابھی بھی اتنی بری نہیں ہے جتنا ہم اس کو سمجھتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ دماغ اور ارادے کی پختگی انسان کو بہت اعلی مقام پر پہنچا دیتی ہے۔ ایک ایسی عورت سے ہم نظریں نہ ملا پائیں کہ وہ دیکھنے میں ایسی لگتی ہے اور دراصل معزور ہے لیکن وہ اپنی اس دنیا میں ایسی جگہ بنا چکی ہیکہ اس کو کسی کی مدد درکار نہیں ہے بلکہ وہ بہت سے نارمل لوگوں کے لیے با آسانی چیریٹی کر سکتی ہے۔یہ بہت بڑی بات ہے اگر کوئی اصل میں سوچے تو۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎