آج میں یہ ساری ٹینشن ختم کر دوں گا

  بدھ‬‮ 10 جنوری‬‮ 2018  |  15:30

ایک آدمی بار میں بیٹھا بےئر پی رہا تھا کہ ایک موٹا سا بھاری بھرکم غنڈہ اپنی ہیوی بائیک باہر پارک کر کے اندر داخل ہوا۔ بہت بھیانک آدمی تھا۔بار میں بیٹھے آدمی کے نزدیک آیا اوراس کی بےئر اٹھا کر ایک ہی گھونٹ میں ختم کر دی۔ موٹا بہت رعب والا اور بد معاش تھا اس نے بےئر پی کر بولا: ہاں ہاں کیا کر لو گے تم؟ بیچارہ آدمی رونے لگا۔ وہ بدمعاش ہنسنے لگ گیا اور بولا کہ کیا کر رہے ہو جوان آدمی ہو کر رو رہے ہو۔ ہا ہا ہا۔۔۔بس کرو۔ میں نے

کبھی اس بار میں کسی آدمی کو اپنی ایسی حرکت پر روتے نہیں دیکھا؟ وہ آدمی جس کی بےئر یہ پی گیا تھا وہ آگے سے بولا: صبح سے میرا اتنا خراب دن چل رہا ہے، آج میری زندگی کا سب سے برا دن تھا۔ پہلے میرے

باس نے مجھے نوکری سے فارغ کر دیا۔ آفس سے باہر نکلا تو میری گاڑی پارکنگ میں موجودنہیں تھی۔ میں چابی لگی چھوڑ گیا تھا کوئی گدھا میری گاڑی چوری کر کے لے گیا۔میری گاڑی کی انشورنس بھی نہیں ہے۔ گاڑی سے ہاتھ دھو دیے۔ گھر پیدل چل کر آیا۔ اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ میری بیوی ساتھ والے آدمی کے ساتھ رنگ ریلیاں منا رہی تھی۔ روتے ہوئے گھر سے باہر نکلا تو میرا کتا مجھے ہی پڑ گیا۔ ہسپتال سے ٹیکے لگوا کر اپنے سارے پیسے خرچ کر کے واپس آیا تو ایک بےئر کے لیے تھوڑی سی رقم نکل آئی۔ ابھی ابھی پکا ارادہ کیا تھا کہ اس ساری ٹینشن کو آج پکاختم کر دوں گا۔ میں نے بےئر منگوائی اور اس میں زہر کی گولیاں ملائی اور ابھی پینے ہی لگا تھا کہ تم ٹپک گئے اور میری ساری بےئر بھی پی گئے۔۔اب مجھے بتاؤ کہ میں روؤں نہیں تو اور کیا کروں۔ یہ سنتے ہی موٹا نیچے گر پڑا اور اپنے برے دنوں کا اختتام کر بیٹھا۔ بدمعاشی ہمیشہ کام نہیں آتی۔

گدھامُلا نصیرالدین کا گدھا مر چکا تھا اور اس کے بغیر ان کی زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی تھی ۔ چنانچہ کئی مہینوں کی محنت و مشقت کے بعد کچھ رقم جمع کی اور ایک نیا گدھا خریدنے کی غرض سے بازار کا رخ کیا ۔ حسبِ منشا گدھا خریدا اور گھر کی راہ اس طرح لی کہ وہ گدھے کی رسی تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور گدھا ان کے پیچھے آرہا تھا ۔ راستے میں چند ٹھگ قسم کے لوگوں نے ملا کو گدھا لے جاتے ہوئے دیکھا تو وہ ان کے قریب ہو گئے ۔ان میں سے ایک آدمی گدھے کے بالکل ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آہستہ سے گدھے کی گردن سے رسی نکال کر اپنی گردن میں ڈال دی اور گدھا اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیا ۔ جب ملا اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے اور مڑ کے پیچھے جو دیکھا تو چار ٹانگوں والے گدھے کی بجائے دو ٹانگوں والا گدھا نظر آیا ۔ یہ دیکھ کر ملا سخت حیران ہوئے اور کہنے لگے ”سبحان اللہ! میں نے تو گدھا خریدا تھا یہ انسان کیسے بن گیا؟“ ۔یہ سن کر وہ ٹھگ بولا”آقائے من! میں اپنی ماں کا ادب نہیں کرتا تھا اور ہر وقت ان کے درپے آزار رہتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بددعا دی کہ تو گدھا بن جائے ۔ چنانچہ میں انسان سے گدھا بن گیا تو میری ماں نے مجھے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا ۔ کئی سال سے میں گدھے کی زندگی بسر کر رہا تھا ۔

آج خوش قسمتی سے آپ نے مجھے خرید لیا اور آپ کی روحانیت کی برکت سے میں دوبارہ آدمی بن گیا۔“ یہ کہہ کر اس نے ملا کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور بہت عقیدت کا اظہار کیا ۔ ملا کو یہ بات بہت پسند آئی ۔ وفورِ مسرت میں نصیحت فرماتے ہوئے کہنے لگے ” اچھا اب جاؤ اور اپنی ماں کی خدمت کرو ۔ کبھی اس کے ساتھ گستاخی نہ کرنا “ ۔ ٹھگ ملا کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو گیا ۔ دوسرے دن ملا نے کسی سے کچھ رقم ادھا لی اور پھر گدھا خریدنے بازار میں پہنچ گئے ۔ ان کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ وہی گدھا ایک جگہ بندھا کھڑا ہے جو انہوں نے کل خریدا تھا ۔ چنانچہ وہ اس گدھے کے قریب گئے اور اس کے کان میں کہنے لگے ” لگتا ہے تم نے میری نصیحت پر عمل نہیں کیا اس لیے پھر گدھے بن گئے ہو “

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎