Android AppiOS App

کامیابی کا راز۔۔

  بدھ‬‮ 10 جنوری‬‮ 2018  |  13:30

ایک ڈاکٹر صاحب نے مطب شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں کامیاب ہوگیا۔ انھوں نے یہ خصوصت دکھائی کہ وہ ہر آنے والے مریض کو سلام میں پہل کرتے۔ عام طور پر ڈاکٹر لوگ اس کے منتظر ہوتے ہیں کے کہ مریض ان کو سلام کریں۔ یہاں پر ڈاکٹر نے خود مریض کو سلام کرنا شروع کردیا۔یہ طریقہ کامیاب رہا۔ اور جلد ہی ان کا مطب خوب چلنے لگا۔ایک دوکاندار نے دیکھا کہ گاہک کے پاس اگر کئی نوٹ ہیں تو عام طور پر وہ میلے اور پھٹے ہوئے نوٹ دوکاندار کو دیتا ہے، اور اچھے اور صاف نوٹوں کو بچا کر جیب میں رکھتا ہے۔اس سے دوکاندار نے سمجھا کہ گاہک صاف نوٹ پسند کرتا ہے

،اس نے گاہک کی اس نفسیات کو استعمال کرنے

کا فیصلہ کیا۔اس نے یہ اصول بنایا کہ جب کوئی گاہک اس سے سامان خریدے گا اور قیمت ادا کرنے کے لئے بڑا نوٹ دے گا تو وہ حساب کرتے وقت گاہک کو نئے اور صاف نوٹ لوٹائےگا۔دوکاندار کی یہ تدبیر بظاہر معمولی اور بے قیمت تھی۔ مگر اس نے گاہکوں کو بہت متاثر کیا۔ وہ سمجھے کہ دوکاندار ان کا بہت خیال کرتا ہے۔ دھیرےدھیرے اس نے اس معمولی تدبیر سے گاہکوں کے دل جیت لئے۔ اس کی دوکان اتنی کامیاب ہوگئی کہ ہروقت اس کے ہاں بھیڑ لگی رہتی۔

کامیابی کا راز یہ ہے کہ آپ اپنے اندر کوئی امتیازی خصوصیت پیدا کریں ،آپ یہ ثابت کریں کہ آپ لوگوں کہ ہمدرد ہیں۔ یہ کام کسی معمولی تدبیر سے بھی کیاجاسکتا ہے۔ حتیٰ کے چند الفاظ بولنے یا پرانے نوٹ کے بدلے نئے نوٹ دینے سے بھی ۔

سمارٹ فون 

ایک شام ایک ٹیچر اپنی ساتھی ٹیچر کے دئےے ہوئے پیپر چیک کر رہی تھی ‘ٹیچر کا شوہر وہیں اپنا سمارٹ فون ہاتھ میں لےے چہل قدمی کر رہا تھا ‘کچھ دیر بعد خاوند نے بیوی کو روتے دیکھا تو پوچھا کیا ہوا؟کیوں رورہی ہو ‘ٹیچر نے جواب دیا میری ساتھی ٹیچر نے مجھ سے چوتھی جماعت کے طلبا کا پیر چیک کرنے کا کہا ہے‘پیپر میں بچوں کو عنوان”میری خواہش“پر ایک پیراگراف لکھنے کا کہا گیا تھا ‘خاوند نے کہا ٹھیک ہے لیکن تم رو کیوں رہی ہو ؟‘ٹیچر نے جواب دیا میں نے ایک پیپر میں ایسا کچھ دیکھا جس نے افسردہ کر دیا ہے ‘خاوند نے دلچسپی سے پوچھا ایسا کیا لکھا ہے ؟ٹیچر نے بآوازبلند پڑھنا شروع کر دیا ‘

ایک بچے نے لکھا تھا‘ میری خواہش ہے کہ میں سمارٹ فون بن جاﺅں‘ میرے والدین اپنے اکلوتے بیٹے سے بھی زیادہ سمارٹ فون سے پیار کرتے ہیں ‘وہ سمارٹ فون کی اتنی پرواہ کرتے ہیں کہ کئی بار میری بھی فکر کرنا بھول جاتے ہیں۔وہ گھنٹوں تک سمارٹ فون پر گیمز کھیلتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے پاس مجھ سے بات کرنے کا وقت نہیں ،میں سمارٹ ٹیکنالوجی کے خاندان میں خود کو تنہاءمحسوس کرتا ہوں‘

اس لےے میں سمارٹ فون بننا چاہتا ہوں شاید! اس طرح مجھے اپنے والدین کا پیار اوران کی توجہ مل سکے۔یہ سننے کے بعد خاوند جذباتی ہوگیا اور پوچھا یہ بچہ کون ہے ؟ٹیچر نے جواب دیا ”ہمارا اکلوتا بیٹا“

دنیا کےساتھ دوڑنا اچھا ہے لیکن کبھی کبھی رکنا ضروری ہے‘ سمارٹ فون سے نظر ہٹائیں‘اپنے پیاروں کو وقت دیںاور حقیقی دنیا کا مزہ لیں‘اپنوں کی قدر کریں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎