جنات انسانوں پر کیسے اور کیوں قابض ہوتے ہیں

  پیر‬‮ 8 جنوری‬‮ 2018  |  11:36

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کئی عالم تخلیق کئے، اس کرہ ارض پر دو ایسی مخلوقات ہیں جن کی ہدایت کیلئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور رسل مبعوث فرمائے ان کیلئےاللہ تعالیٰ نے سزا و جزا کا تصور پیش کیا یعنی یوم آخرت ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دو مخلوقات انسان اور جن ہیں۔

جنات کی دنیا اسرار کے پردے چھپی رہتی ہے ۔ جنات انسانوں کی نـظروں سے پوشیدہ کر دئیے گئے۔ زمین پر انسان کو اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے جنات کو مختلف جزائر اور

ویران جگہوں تککر دیا۔جنات کےمقید کرنے کا واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ انسان کو زمین پر اتارنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سردار ابلیس کو بارگاہ میں طلب فرمایا۔ ابلیس جنات میں سے تھا اور آگ سے پیدا کیا گیا تھا اور اللہ کے نہایت برگزیدہ فرشتوں میں شمار ہوتا تھا ۔ اس کو رب تعالیٰ نے اس قدر علم عطا کر رکھا تھا کہ وہ اس علم کی بنیاد پر فرشتوں کا سردار بنا۔ ابلیس کو حکم دیا گیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اترو اور جنات جو زمین پر فساد اور لڑائی جھگڑوں میں مشغول ہیں انہیں ویران جزائر اور پہاڑی غاروں میں قید کر دیا جائےجو ایک خاص مقررہ وقت تک وہاں قید رہیں گے۔

ابلیس بارگاہ الٰہی سے حکم لے کر فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ زمین پر اتر اور جنات کو نہایت قلیل وقت میں مختلف ویران جزائر اور پہاڑی غاروں اور ویرانوں میں قید کر دیا گیا جو ایک روایت کے مطابق حضرت سلیمان ؑ کے دور تک قید میں رہےاور پھرمشیت ربی کے تحت انہیں آزادی ملی اور وہ دنیا میں چلنے پھرنے لگے۔ جنات کو قید کرنے کے بعد عرش الٰہی تک ابلیس کا فرشتوں کی جماعت کے ساتھ سفر شروع ہوا۔ دوران سفر ابلیس کے دل میں غرور اور تکبر نے سر اٹھایا اور اس نے نہایت قلیل وقت میں نہایت طاقتور جنات کو قید کرنے سے متعلق غرور کیا۔ اس کی خبر رب تعالیٰ کو تو ہو گئی مگر دیگر فرشتے اس سے بے خبر رہے۔

روایات میں آتا ہے کہ یہ پہلا موقع تھا جب ابلیس نے غرور کیا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے غرور کو طشت ازبام کرنے کیلئے آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کر دیا کیونکہ جنات کو قید کرنے کے بعد اس کے دل میں غرور اور تکبر آچکا تھا ۔ ’’میں آگ سے بنا ہوں ، یہ مـٹی کی پیداوار، میرا اور اس کا کیا جوڑ کہ میں اس مٹی کے پتلے کو سجدہ کروں‘‘حکم تعالیٰ سے انکار پر ابلیس کو راندہ درگاہ کرتےہوئے شیطان ٹھہرا دیا گیا۔ حضرت سلیمان ؑ کے دور میں مشیت ایزدی اور مقررہ وقت پورا ہو چکا تھا جس کے بعد جنات قید سے نکل کر دوبارہ زمین پر فساد برپا کرنے لگے۔

حضرت سلیمانؑ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی ہے کہ آپ شیاطین جنات کو قابو کر لیتے اور انہیں سزا کے طور پر دوبارہ قید میں ڈال دیتے۔ جنات کے وجود کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہوا ہے اور ایک پوری سورہ ’’سورۃ جن‘‘کے نام سے موجود ہے۔مسجد الجن، مسجد حرام کی شمال کی جانب تین کلومیٹر کی مسافت پر واقع تاریخ اسلام کی عظیم یادگارسجھی جاتی ہے۔ کتب تاریخ میں اس کی شہرت کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں تاہم اس کی سب بڑی وجہ شہرت یہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر جنات کی ایک جماعت کا قبول اسلام کا واقعہ ہے۔العربیہ کی رپورٹ کے مطابق مسجد حرام کے شمال میں تین ہزار میٹر کے فاصلے پر جہاں آج 'مسجد الجن موجود ہےجنات کی ایک جماعت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ آپ سے قران پاک سُنا۔

اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے سوالوں کے جواب دیے۔مستند تاریخی مصادر اور کتب سِیَر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار آپ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن مسعود کو ہمراہ لیے رات کے وقت اس جگہ پہنچے۔ آپ نے عبداللہ بن مسعود کو ایک خاص مقام سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا تاکہ کہیں جنات انہیں نقصان نہ پہنچا دیں۔ پھر آپ کی ملاقات جنات کے ایک گروپ سے ہوئی، جنہوں اسلام قبول کیا اور آپ سے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے۔ قرآن پاک کی سورہ الجن وہیں اور اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی۔بعد ازاں اسی مناسبت سے وہاں ایک وسیع وعریض مسجد تعمیر کی گئی، جسے 'مسجد الجن کا نام دیا گیا۔ مرور زمانہ کے ساتھ مسجد کی تعمیر و مرمت کے دورن اس کے ڈیزائن بدلتے رہے ہیں مگر اس کے قیام کا واقعہ آج تک مسلمانوں کے دلوں میں تازہ ہے۔ الحرمین الشریفین کی زیارت کا شرف حاصل کرنے والے 'مسجد الجن کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

ماہ صیام میں یہاں افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے جہاں دنیا بھر سے آئے زائرین اور معتمرین عقیدت واحترام کے ساتھ اس مسجد میں حاضر ہوتے، عبادت کرتے اور افطار میں شرکت کرتے ہیں۔جنات کے انسانوں پر اثر انداز ہونے کے واقعات بھی آئے روز ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں۔ یہ انسانی جسم میں داخل ہو کر اس سے عجیب و غریب حرکات کرواتے ، ایـذا پہنچاتے ہیں ۔ اس کے پیچھے چند عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جنات کیسے انسانی جسم پر حاوی ہوتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو عام آدمی نہیں جانتا۔ابن تیمیہ کے مطابق انسان جب نیکی سے غافل ہو کر برائی کی جانب راغب ہوتا ہے تو بد اثرات سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بـڑھ جاتا ہے۔ ہوس پرستی اور فحاشی کی حالت میں بھی برائی انسان پر غالب آجاتی ہے اور ایسے میں جنات جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جن بھی کئی معاملات میں انسانوں کی طرح ہوتے ، وہ پسندیدگی و ناپسندیدگی اور اچھائی یا برائی جیسے جذبات بھی رکھتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ وہ محض آپ کے چہرے کو ناپسند کرتے ہوں اور آپ کے جسم پر قبضہ کر لیں۔ دوسری جانب جناب کو انسان سے محبت بھی ہو سکتی ہے۔

وہ کسی کو برہنہ دیکھ کر بھی اس پر فریفتہ ہو سکتے ہیں اور اس کے جسم پر قابض ہو سکتے ہیں، یہ معاملہ خواتین کے ساتھ زیادہ پیش آتا ہے۔ چونکہ جن انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں اس لئے بعض اوقات ہم انجانے میں انہیں نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں، مثال کے طور پر آپ کہیں گرم پانی انڈیلتے ہیں، یا کسی درخت یا پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر رفع حاجت کرتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ یہاں جنات کا بسیرا ہے اور آپ کے اس عمل سے وہ ناراض ہو سکتے ہیں اور بدلہ لینے کیلئے آپ کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔بہت زیادہ خوف کی حالت یا ایسے معاملات جن سے دور رہنا چاہئے اور آپ اس کی ٹوہ میں ہوتے ہیں تو تب بھی جنات آپ پر غالب آسکتے ہیں۔ جنات جسم کے کس حصے سے داخل ہو کر انسان پر قبضہ جماتے ہیں اس کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں تاہم قرین از قیاس یہ ہے کہ انسان کی موت کے وقت روح انسانی ناخنوں، ناک، آنکھ اور منہ سے نکلتی ہے اور یہی جگہ ایسی ہوتی ہیں جہاں سے جنات انسانی جسم میں داخل ہو کر قبضہ جماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر سے بچنے کیلئے کئی طریقے بتائے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ کے ذریعے تعلیم بھی دی گئی اور کئی ایسی مسنون دعائیں اور وظائف موجود ہیں جن کے ذریعے جنات کا توڑ کیا جا سکتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎