آسمان کی آفتیں

  بدھ‬‮ 27 دسمبر‬‮ 2017  |  16:02

خلیفہ ہارون الرشید عباسی خاندان کا پانچواں خلیفہ تھا‘ عباسیوں نے طویل عرصے تک اسلامی دنیا پر حکومت کی لیکن ان میں سے شہرت صرف ہارون الرشید کو نصیب ہوئی۔ ہارون الرشید کے دور میں ایک بار بہت بڑا قحط پڑ گیا۔ اس قحط کے اثرات سمرقند سے لے کر بغداد تک اور کوفہ سے لے کر مراکش تک ظاہر ہونے لگے۔ ہارون الرشید نے اس قحط سے نمٹنے کیلئے تمام تدبیریں آزما لیں‘اس نے غلے کے گودام کھول دئیے‘

ٹیکس معاف کر دئیے‘ پوری سلطنت میں سرکاری لنگر خانے قائم کر دئیے اور تمام امراءاور تاجروں

کو متاثرین کی مدد کیلئے موبلائز کر دیا لیکن اس کے باوجود عوام کے حالات ٹھیک نہ ہوئے۔ ایک رات ہارون الرشید شدید ٹینشن میں تھا‘اسے نیند نہیں آ رہی تھی‘ ٹینشن کے اس عالم میں اس نے اپنے وزیراعظم یحییٰ بن خالد کو طلب کیا‘ یحییٰ بن خالد ہارون الرشید کااستاد بھی تھا۔اس نے بچپن سے بادشاہ کی تربیت کی تھی۔ ہارون الرشید نے یحییٰ خالد سے کہا ”استادمحترم آپ مجھے کوئی ایسی کہانی‘ کوئی ایسی داستان سنائیں جسے سن کر مجھے قرار آ جائے“ یحییٰ بن خالدمسکرایا اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت میں نے اللہ کے کسی نبی کی حیات طیبہ میں ایک داستان پڑھی تھی‘ یہ داستان مقدر‘ قسمت اور اللہ کی رضا کی سب سے بڑی اور شاندار تشریح ہے۔ آپ اگر ۔۔اجازت دیں تو میں وہ داستان آپ کے سامنے دہرا دوں“ بادشاہ نے بے چینی سے فرمایا ”یا استاد فوراً فرمائیے۔میری جان حلق میں اٹک رہی ہے

“ یحییٰ خالد نے عرض کیا ” کسی جنگل میں ایک بندریا سفر کیلئے روانہ ہونے لگی‘ اس کا ایک بچہ تھا‘ وہ بچے کو ساتھ نہیں لے جا سکتی تھی چنانچہ وہ شیر کے پاس گئی اور اس سے عرض کیا ”جناب آپ جنگل کے بادشاہ ہیں‘ میں سفر پر روانہ ہونے لگی ہوں‘ میری خواہش ہے آپ میرے بچے کی حفاظت اپنے ذمے لے لیں“ شیر نے حامی بھر لی‘ بندریا نے اپنا بچہ شیر کے حوالے کر دیا‘ شیر نے بچہ اپنے کندھے پر بٹھا لیا‘ بندریا سفر پر روانہ ہوگئی‘ اب شیر روزانہ بندر

کے بچے کو کندھے پر بٹھاتا اور جنگل میں اپنے روزمرہ کے کام کرتا رہتا۔ ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک آسمان سے ایک چیل نے ڈائی لگائی‘ شیر کے قریب پہنچی‘ بندریا کا بچہ اٹھایا اور آسمان میں گم ہو گئی‘ شیر جنگل میں بھاگا دوڑا لیکن وہ چیل کو نہ پکڑ سکا“ یحییٰ خالدرکا‘ اس نے سانس لیا اور خلیفہ ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت چند دن بعد بندریا واپس آئی اور شیر سے اپنے بچے کا مطالبہ کر دیا۔شیر نے شرمندگی سے جواب دیا‘تمہارا بچہ تو چیل لے گئی ہے‘ بندریا کو غصہ آگیا اور اس نے چلا کر کہا ”تم کیسے بادشاہ ہو‘ تم ایک امانت کی حفاظت نہیں کر سکے‘ تم اس سارے جنگل کا نظام کیسے چلاﺅ گے“ شیر نے افسوس سے سر ہلایا اور بولا ”میں زمین کا بادشاہ ہوں‘ اگر زمین سے کوئی آفت تمہارے بچے کی طرف بڑھتی تو میں اسے روک لیتا لیکن یہ آفت آسمان سے اتری تھی اور آسمان کی آفتیں صرف اور صرف آسمان والا روک سکتا ہے“۔یہ کہانی سنانے کے بعد یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید سے عرض کیا ”بادشاہ سلامت قحط کی یہ آفت بھی اگر زمین سے نکلی ہوتی تو آپ اسے روک لیتے‘ یہ آسمان کا عذاب ہے‘ اسے صرف اللہ تعالیٰ روک سکتا ہے چنانچہ آپ اسے رکوانے کیلئے بادشاہ نہ بنیں‘ فقیر بنیں‘ یہ آفت رک جائے گی“۔دنیا میں آفتیں دو قسم کی ہوتی ہیں‘ آسمانی مصیبتیں اور زمینی آفتیں۔ آسمانی آفت سے بچے کیلئے اللہ تعالیٰ کا راضی ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ زمینی آفت سے بچاﺅ کیلئے انسانوں کامتحد ہونا‘ وسائل کا بھر پور استعمال اور حکمرانوں کا اخلاص درکار ہوتا ہے۔یحییٰ بن خالد نے ہارون الرشید کو کہا تھا ”بادشاہ سلامت آسمانی آفتیں اس وقت تک ختم نہیں ہوتیں جب تک انسان اپنے رب کو راضی نہیں کر لیتا‘ آپ اس آفت کامقابلہ بادشاہ بن کر نہیں کر سکیں گے چنانچہ آپ فقیر بن جائیے۔ اللہ کے حضور گر جائیے‘ اس سے توبہ کیجئے‘ اس سے مدد مانگیے“۔ دنیا کے تمام مسائل اوران کے حل کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا ماتھے اور جائے نماز میں ہوتا ہے

لیکن افسوس ہم اپنے مسائل کے حل کیلئے سات سمندر پار تو جا سکتے ہیںلیکن ماتھے اور جائے نماز کے درمیان موجود چند انچ کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے۔مہلتنواز شریف نے مولانا سے عرض کیا ” حضرت آپ یہ حدیث مبارکہ کابینہ کو سنا دیں گے۔“ مولانا نے درخواست قبول کر لی۔یہ 1999ءکے ستمبر کی بات ہے۔ مولانا طارق جمیل وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے پرائم منسٹر ہاﺅس گئے۔ نواز شریف ان دنوں بہت پریشان تھے۔ مولانا نے فرمایا‘ جناب عذاب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ زمینی اور آسمانی۔ زمینی آفتوں کے حل کے لئے تو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے چند اصول وضع کر دیئے ہیں رہی آسمانی آفتیں تو ان کا صرف ایک ہی حل ہے ” توبہ“۔ مولانا نے ساتھ ہی حدیث مبارکہ کا ذکر کیا اور فرمایا دنیا کے 25مسائل ہیں۔ فرد ہو یا قوم انہیں 25مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کا حل اللہ کے رسولﷺ نے کچھ یوں تجویز فرمایا۔ نواز شریف حدیث مبارکہ سن کر چونک اٹھے۔ مسائل اور ان کے حل یوں سامنے پڑے تھے جیسے میز پر قہوے کی پیالیاں‘ وزیر اعظم فرط جذبات سے کھڑے ہوئے اور مولانا سے بغل گیر ہو کر عرض کیا ” حضرت آپ یہ حدیث مبارکہ کابینہ کو سنا دیں گے۔“ مولانا نے درخواست قبول کر لی۔

مولانا طارق جمیل پچھلے ہفتے اسلام آباد تشریف لائے۔ انہوں نے مجھے شرف بازیابی بخشا، گفتگو شروع ہوئی تو نواز شریف کا ذکر ہوا۔ میں نے وہ حدیث مبارکہ دہرانے کی درخواست کی۔ مولانا دو زانو ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔ ایک بدو رسول اللہﷺ کے دربار میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہﷺ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، ہاں کہو۔ دربار میں اس وقت حضرت خالدؓ بن ولید بھی موجود تھے۔ انہوں نے یہ حدیث مبارکہ تحریر کر کے پاس رکھ لی بعد ازاں یہ فرمان کنزالعمال مسند احمد میں نقل ہوا۔ بدو نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ میں امیر (غنی) بننا چاہتا ہوں، فرمایا قناعت اختیار کرو امیر ہو جاﺅ گے۔ عرض کیا میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں، فرمایا تقویٰ اختیار کرو عالم بن جاﺅ گے۔عرض کیا، عزت والا بننا چاہتاہوں۔ فرمایا، مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو باعزت ہو جاﺅ گے۔ عرض کیا، اچھا انسان بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا، لوگوں کو ،نفع پہنچاﺅ۔ عرض کیا، عادل بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا، جو اپنے لئے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو۔ عرض کیا، طاقتور بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا، اللہ پر توکل کرو۔ عرض کیا،اللہ کے دربار میں خاص (خصوصیت) درجہ چاہتاہوں۔ فرمایا، کثرت سے ذکر کرو۔ عرض کیا، رزق کی کشادگی چاہتا ہوں۔ فرمایا، ہمیشہ باوضورہو۔عرض کیا، دعاﺅں کی قبولیت چاہتا ہوں۔ فرمایا، حرام نہ کھاﺅ۔ عرض کیا، ایمان کی تکمیل چاہتاہوں۔ فرمایا، اخلاق اچھے کر لو۔ عرض کیا، قیامت کے روز گناہوں سے پاک ہو کر اللہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، جنابت کے فوراً بعد غسل کیا کرو۔ عرض کیا، گناہوں میں کمی چاہتا ہوں۔ فرمایا، کثرت سے استغفار کیا کرو۔ عرض کیا، قیامت کے روز نور میں اٹھنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، ظلم کرنا چھوڑ دو۔ عرض کیا، چاہتا ہوں اللہ مجھ پر رحم کرے۔ فرمایا، اللہ کے بندوں پر رحم کرو۔ عرض کیا، چاہتا ہوں اللہ میری پردہ پوشی کرے۔ فرمایا، لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔

عرض کیا، رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، زنا سے بچو۔ عرض کیا، چاہتا ہوں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا محبوب بن جاﺅں۔ فرمایا، جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہے اسے اپنا محبوب بنا لو۔ عرض کیا، اللہ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا، فرائض کا اہتمام کرو۔ عرض کیا، احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں۔ فرمایا، اللہ کی یوں بندگی کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو یا جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ عرض کیا، یا رسول اللہﷺ گناہوں سے کون سی چیز معافی دلائے گی۔ فرمایا، آنسو، عاجزی اور بیماری۔ عرض کیا، کیا چیز دوزخ کی آگ ٹھنڈا کرے گی۔ فرمایا، دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔ عرض کیا، اللہ کے غصے کو کیا چیز سرد کرتی ہے۔ فرمایا، چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی۔ عرض کیا، سب سے بڑی برائی کیا ہے۔ فرمایا، بداخلاقی اور بخل۔ عرض کیا، سب سے بڑی اچھائی کیا ہے۔ فرمایا، اچھے اخلاق، تواضع اور صبر۔ عرض کیا، اللہ کے غصے سے بچنا چاہتا ہوں۔ فرمایا، لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔ حدیث مبارکہ ختم ہو گئی۔مولانا سیدھے ہو کر بیٹھے اور فرمایا۔ میں نے کابینہ کے ارکان سے کہا۔ ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں لہٰذا ہم دنیاوی مسائل سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ ہم من حیث القوم اصراف کا شکار ہیں لہٰذا امیر (غنی) کیسے ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں لہٰذا باعزت کیسے ہو سکتے ہیں۔ بے وضو رہتے ہیں لہٰذا ہمارا رزق کیسے کشادہ ہو سکتا ہے۔ توکل اختیار نہیں کرتے لہٰذا طاقتور کیسے بن سکتے ہیں۔ بد اخلاق ہیں لہٰذا ہمارا ایمان کیسے مکمل ہو سکتا ہے۔ بندوں پر رحم نہیں کرتے لہٰذا اللہ ہم پر کیسے رحم کرے گا اور صدقات سے پرہیز کرتے ہیں لہٰذا اللہ کے غصے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ نواز شریف نے پوچھا ” حضرت پھر ہمیں اللہ کی رحمت کے لئے کیا کرنا چاہیے۔“ مولانا نے فرمایا جناب اللہ سے توبہ کریں اور عوام سے توبہ کی اپیل کریں۔ اللہ آنسو بہانے، گڑگڑانے اور معافی مانگنے والوں کو معاف کر دیا کرتا ہے۔ جناب وزیر اعظم یقین کر لیجئے، یہ مسائل زمینی نہیں آسمانی ہیں۔ جب تک اللہ کی مدد، اللہ کی رہنمائی اور اللہ کی رحمت نہیں آئے گی۔ یہ ملک ٹھیک ہو گا اور نہ ہی اس ملک کے مسائل ختم ہوں گے۔ نواز شریف نے کہا ” حضرت آپ مجھے تقریر لکھ دیں، میں قوم سے خطاب کرو ں گا اور اس سے توبہ کرنے کی اپیل کروں گا۔“ میٹنگ ختم ہو گئی، مولانا نے تقریر لکھنا شروع کر دی لیکن نواز شریف کی مہلت ختم ہو گئی۔

مولانا طارق جمیل جب یہ حدیث مبارکہ سنا رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا، موجودہ حکمرانوں کو بھی اس حدیث کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی نواز شریف کو تھی۔ ان کو بھی یہ احساس دلانا ضروری ہے جو لوگ مہلت کو نعمت سمجھتے ہیں وہی لوگ دراصل خسارے میں رہتے ہیں۔ اللہ کے نام پر بننے والے ملک میں اللہ کا جس قدر مذاق اڑایا گیا۔ اللہ کے احکامات کی جس قدرخلاف ورزی کی گئی اب اللہ کے عذاب سے بچنے، اب اس سے معافی کا صرف ایک ہی راستہ ہے ” توبہ“۔ آئیے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر گڑگڑائیں۔ اس سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں، اس سے توبہ کریں۔ اس سے پہلے کہ توبہ کے سارے راستے بند ہو جائیں۔ اس سے پہلے کہ مہلت ختم ہو جائے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎