زندگی کے اصول

  جمعہ‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2017  |  0:34

کسی جگہ ایک بوڑھی مگر سمجھدار اور دانا عورت رہتی تھی جس کا خاوند اْس سے بہت ہی پیار کرتا تھا۔دونوں میں محبت اس قدر شدید تھی کہ اْسکا خاوند اْس کیلئے محبت بھری شاعری کرتا اور اْس کیلئے شعر کہتا تھا۔عمر جتنی

زیادہ ہورہی تھی، باہمی محبت اور خوشی اْتنی ہی زیادہ بڑھ رہی تھی۔جب اس عورت سے اْس کی دائمی محبت اور خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیاکہ آیا وہ ایک بہت ماہر اور اچھا کھانا پکانے والی ہے؟ یا وہ بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت ہے؟یا وہ بہت زیادہ عیال دار اور

بچے پیدا کرنے والی عورت رہی ہے؟ یا اس محبت کا کوئی اور راز ہے؟تو عورت نے یوں جواب دیا کہ خوشیوں بھری زندگی کے اسباب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے بعد خود عورت کے اپنے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر عورت چاہے تو وہ اپنے گھر کو جنت کی چھاؤں بنا سکتی ہے اوراگر یہی عورت چاہے تو اپنے گھر کو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ سے بھی بھر سکتی ہے۔مت سوچیئے کہ مال و دولت خوشیوں کا ایک سبب ہے۔ تاریخ کتنی مالدار عورتوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے خاوند اْن کو اْنکے مال متاب سمیت چھوڑ کر کنارہ کش ہو گئے۔اور نا ہی عیالدار اور بہت زیادہ بچے پیدا کرنے والی عورت ہونا کوئی خوبی ہے۔ کئی عورتوں نے دس دس بچے پیدا کئے مگر نا خاوند اْنکے

مشکور ہوئے اور نا ہی وہ اپنے خاوندوں سے کوئی خصوصی التفات اور محبت پا سکیں بلکہ طلاق تک نوبتیں جا پہنچیں۔اچھے کھانا پکانا بھی کوئی خوبی نہیں ہے، سارا دن کچن میں رہ کرمزے مزے کے کھانے پکا کر بھی عورتیں خاوند کے غلط معاملہ کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں اور خاوند کی نظروں میں اپنی کوئی عزت نہیں بنا پاتیں ،تو پھر آپ ہی بتا دیں اس پْرسعادت اور خوشیوں بھری زندگی کا کیا راز ہے؟ اور آپ اپنے اورخاوند کے درمیان پیش آنے والے مسائل اور مشاکل سے کس طرح نپٹا کرتی تھیں؟ اْس نے جواب دیا: جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا تھا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اْن لمحات میں ( نہایت ہی احترام کے ساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ یہاں ایک بات واضح کر دوں کہ احترام کیساتھ خاموشی کا یہ مطلب ہے کہ آنکھوں سے حقارت اور نفرت نا جھلک رہی ہو اور نا ہی مذاق اور سخریہ پن دکھائی دے رہا ہو۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال اور ایسے معاملے کو بھانپ لیا کرتا ہے۔

اچھا تو آپ ایسی صورتحال میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟اْس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا تم اْس سے فرار چاہتی ہو اور اْسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی، خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اْسے نا صرف یہ کہ سْننا بلکہ اْس کے کہے سے اتفاق کرنا بھی اْتنا ہی اشد ضروری ہے۔ میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جایا کرتی تھی، کیونکہ اس ساری چیخ و پکار اور شور و شرابے والی گفتگو کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اْسے آرام کی ضرورت ہوتی تھی۔ کمرے سے باہر نکل کر میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جاتی تھی، بچوں کے کام کرتی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے میں وقت گزارتی اور اپنے دماغ کو اْس جنگ سے دور بھگانے کی کوشش کرتی جو میری خاوند نے میرے ساتھ کی تھی۔

تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اختیار کرلینا اور خاوند سے ہفتہ دس دن کیلئے بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟ اْس نے کہا: نہیں، ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا فعل اور خاوند کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دو رْخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم اپنے خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع شروع میں اْس کیلئے یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنا چاہے گا اور بولنے کی کوشش بھی کرے گا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اْس میں تم سے دو ہفتوں تک نا بولنے کی استعداد آ جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔ خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اْس کیلئے آکسیجن کی مانند ہو اور تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہے۔اگر ہوا بننا ہے تو ٹھنڈی اور لطیف ہوا بنو نا کہ گرد آلود اور تیز آندھی۔اْس کے بعد آپ کیا کیا کرتی تھیں؟اْس عورت نے کہا: میں دو گھنٹوں کے بعد یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس کا ایک گلاس یا پھر گرم چائے کا یک کپ بنا کر اْس کے پاس جاتی، اور اْسے نہایت ہی سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہوتا تھا۔ میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات ہوئی ہی نہیں۔

جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھتا تھا کہ کیا میں اْس سے ناراض تو نہیں ہوں۔جبکہ میرا ہر بار اْس سے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔ اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویئے کی معذرت کرتا تھا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔تو کیا آپ اْس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟ہاں، بالکل، میں اْن باتوں پر بالکل یقین کرتی تھی۔ میں جاہل نہیں ہوں۔ کیا تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اپنے خاوند کی اْن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھ سے غصے میں کہہ ڈالتا تھا اور اْن باتوں پر یقین نا کروں جو وہ مجھے پر سکون حالت میں کرتا تھا؟ غصے کی حالت میں دی ہوئی طلاق کو تو اسلام بھی نہیں مانتا، تم مجھ سے کیونکر منوانا چاہتی ہو کہ میں اْسکی غصے کی حالت میں کہی ہوئی باتوں پر یقین کرلیا کروں؟تو پھر آپکی عزت اور عزت نفس کہاں گئی؟کاہے کی عزت اور کونسی عزت نفس؟ کیا عزت اسی کا نام ہے تم غصے میں آئے ہوئے ایک شخص کی تلخ و ترش باتوں پر تو یقین کرکے اْسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لومگر اْس کی اْن باتوں کو کوئی اہمیت نا دو جو وہ تمہیں پیار بھرے اور پر سکون ماحول میں کہہ رہا ہے! میں فوراً ہی اْن غصے کی حالت میں دی ہوئی گالیوں اور تلخ و ترش باتوں کو بھلا کر اْنکی محبت بھری اور مفید باتوں کو غور سے سنتی تھی۔ جی ہاں، خوشگوار اور محبت بھری زندگی کا راز عورت کی عقل کے اندر موجود تو ہے مگر یہ راز اْسکی زبان سے بندھا ہوا ہے۔

دنیا کا سب سے امیر آدمی اینڈریو

دنیا کا سب سے امیر آدمی اینڈریو کارنیگی کہتا تھا کہ فیصلہ نہ لے پانے سے بہت بہتر ہے کہ تم برا فیصلہ کر لو اور رسک لے لو۔کیاآپ جانتے ہیں کہ 95% لوگوں کو ایسے کیوں لگتا ہے جیسے ان کے پاس کسی نہ کسی چیز کی کمی ہے اور وہ خوش نہیں رہ سکتے؟ یہ بات اینڈریو کارنیگی نے کہی ہے کہ اتنے زیادہ لوگ اپنی زندگی اطمینان اور خوشی سے عاری گزار رہے ہیں کیونکہ وہ کوئی غلط فیصلہ لینے سے گھبراتے ہیں۔ اینڈریو کار نیگی دنیا کا جانا مانا سب سے امیر آدمی تھا۔ اس نے دنیا میں امیر ترین ہونے کا ریکارڈ قائم کیا اور جب وہ 66 سال کا ہو گیا تو رٹائر ہو گیا۔ اس نے اپنی ساری دولت چیریٹی کردی اور فلانتھروپسٹ بن گیا۔ انڈریو کا دعوہ تھا کہ وہ پیسے کمانے کا گر جان گیا تھا اور اس کے لیے کسی بھی وقت دنیا کا امیر ترین آدمی بننا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ 1901 میں رٹائر ہوا تھا۔ ایک دفعہ اس کے پاس ایک لڑکا آیا۔۔۔نپولین ہل۔لڑکے نے بتایا کہ وہ جاب کے سلسلے میں آیا تھا۔ اینڈریو نے سٹاپ واچ ٹیبل کے نیچے اپنے ہاتھ میں ساٹھ سیکنڈ کے سٹاپر پر سیٹ کی اور اس سے سوال کیا کہ تم اپنی زندگی کے اگلے بیس سال ابھی ایک منٹ میں میرے حوالے کر سکتے ہو۔

اگلے بیس سال تم صرف میرے لیے کام کرو گے اور تمہارا کام ہو گا دنیا کے تمام امیر اور کامیاب لوگوں کی ہر طرح کی سٹریٹیجی اور زندگی کی حکمت عملی کو پڑھنا اور تحریر کرنا۔ پر شرط یہ تھی کہ وہ لڑکا ایک منٹ کے اندراندر ہاں کرتا اور مطلب یہ تھا کہ آگے وہ کامیاب ہو تا یا ناکام اس کو بیس سال کا کانٹریکٹ سائن کرنا تھا۔ لڑکے نے بتیس سیکنڈ بعد ہاں بول دیا اور اینڈریو کہتا ہے کہ وہ تبھی جان گیا تھا کہ نپولین ہل ایک کامیاب آدمی بنے گا۔ نپولین ہل 1883میں پیدا ہوا تھا اور جس دن سے اس نے اینڈریو کار نیگی کے لیے کام شروع کیا تھا وہ کبھی زوال کی طرف نہیں گیا بلکہ ایک غریب گھرانے کا لڑکا اتنی بلندی پر پہنچا کہ اس نے ’تھنک اینڈ گرو رچ‘ جیسی ایک کتاب لکھی جو اپنے وقت کی بیسٹ سیلر بنی اوروہ تھامس ایڈیسن، فرینک رووز ویلٹ، ہینری فورڈ اور ماہاتما گاندھی جیسے معروف لیڈروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ حاصل کلام صاف ہے کہ کوئی رسک نہیں لو گے تو جدھر بیٹھے ہو وہیں بیٹھے رہ جاؤ گے اورزندگی میں کبھی کچھ نیا نہیں سیکھ سکوگے۔ اینڈریو جیسے امیر ترین آدمی نے تو دنیاکو یہی بولا کہ برا فیصلہ کوئی فیصلہ نہ لے پانے سے بہت بہتر ہوتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎