کامیابی کسی کی میراث نہیں

  جمعہ‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2017  |  14:54

نواز الدین صدیقی وہ بھارتی اداکار ہے جسے در در منہ کی کھانی پڑی اور جسے کسی بھی فلم میں کردار حاصل کرنے کے لیے 12 سال تک لگ گئے۔  لیکن کچھ ہی سالوں میں اس نے اپنے ملک کے علاوہ دنیا میں بھی اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔ نوازالدین صدیقی کی پیدائش 1974 میں بھارتی ضلع مظفر نگر کے چھوٹے سے گاؤں میں ہوا۔ نواز کا باپ بتاتا ہے کہ یہ ہر سال پیسے جمع کرتا تھا اور عید یا دیوالی پر سینما جا کر فلم دیکھتا

تھا۔ گاؤں میں ماحول اچھا نہ ہونے کی وجہ

سے وہ ہریدوار چلا گیا اور وہاں کیمسٹری کے مضمون میں گریجویشن کی۔ اس کے بعد وہ ایک کمپنی میں بطور کیمسٹ کام کرنے لگا۔ اس کا اس کام میں دل نہ لگتا مگر مجبوری کے تحت اسے کرنا ہی پڑا۔ ایک دن اس کے ایک دوست نے اسے گجراتی ناٹک دکھایا۔ جسے دیکھ کر اسے احساس ہوا کہ یہی وہ کام ہے جس کے لیے یہ پیدا ہوا ہے۔ اسی غرض سے وہ دہلی آگیا اور وہاں کچھ فلمیں دیکھیں جس کے بعد اس نے ادکار بننے کا تہیہ کرلیا۔ پھر نیشنل سکول آف ڈرامہ سے کچھ عرصہ اداکاری سیکھی۔ کئی جگہوں پر انہوں نے چھوٹے موٹے کردار نبھائے مگر اس سے انکا خرچہ نہیں چل پا رہا تھا۔اب نواز  نے سکول کے ایک سینیئر سے درخواست کی کہ اسے اپنے ساتھ پناہ دی جائے۔ اس نے اس شرط پر اسے پناہ دی کہ وہ اس کے گھر کے کام کرے گا۔ ںواز نے بہت مشقت بھرے دن کاٹے۔ چھوٹے موٹے کردار کر کر کے وہ تھک گیا تھا مگر کیا کرتا کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔

ایک دن ایک مشہور ڈائریکٹر نے نواز کی اداکاری کے جوہر دیکھ لیے اور اسے ایک  فلم بلیک فرائیڈے میں جگہ دی جسے نواز نے بخوبی نبھایا۔ بس وہاں سے ہی اس کی گاڑی چل نکلی۔ اپنی کڑی محنت اور خود اعتمادی کی وجہ سے نہ صرف وہ بڑے پردے پر چھا گیا بلکہ بہت سے ایوارڈ بھی اپنے سر کیے۔ نواز باقی اداکاروں کی طرح روایتی اداکار نہیں تھا مگر اس کے ارادے کی سچائی نے اسے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا۔ اگر اپنے خواب کو پانا ہے تو محنت کر کے آگے بڑھنا ہی ایک راستہ ہے۔ مشکلوں سے لڑتے ہوئے  جیت کر ہی عزت و وقار آپکا مقدر بن سکتی ہے۔نیچے سکرول کریں اور زندگی بدلنے والی پوسٹس پڑھیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎