میرے ساتھ بے ایمانی کرتا ہے

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  11:26

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک آدمی اپنا گزر بسر اپنی بیکری چلا کر کرتا تھا، بیکری میں وہ بذات خود بریڈ بناتا تھا اور کپ کیکس اور کیکس اور پیسٹریز۔ ان سب کے لیے اسے مکھن کی کافی مقدار درکار ہوتی تھی۔ مکھن کے لیے وہ ساتھ والے کسان کے پاس جاتا تھا۔ ان کا یہ کاروباری رشتہ کئی سالوں پر محیط تھا۔ کسان اپنی بھینسوں کا دودھ چوہ کر اس سے مکھن اور پنیر بناتا تھا اور یہ مکھن بڑی مقدار میں بیکری والے کو

فروخت کرتا تھا۔ ایک

دن بیکری کے مالک کو شک گزرا کہ مکھن کی مقدار کم تھی۔ اس نے سوچا چلو چھوڑو اتنا پرانا سپلائیر ہے، کیسے بے ییمانی کرسکتا ہے۔اس نے اگلے بھی کچھ دن یہی محسوس کیا کہ مکھن کا وزن کافی کم لگتا تھا، کوئی دو ہفتے اس نے لگا تار ہر روز مکھن کو دکان میں لاتے ہی تولنا شروع کر دیا۔ ہر رہز مکھن کا وزن اور کم ہوتا جاتا تھا۔ بیکری کا ملک طیش میں آگیا اور جا کر عدالت میں اس کسان پر دھوکہ دہی کا مقدمہ دائر کر دیا۔ جج نے دونوں کو تاریخ دے دی، مقررہ تاریخ پر دونوں عدالت میں حاضر ہوئے اور اپنا اپنا موئقف بیان کیا۔ پہلے بیکری کے مالک نے بولا کہ یہ میرے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے اور مجھے کم مکھن دے رہا ہے حالانکہ پیسے اتنے ہی لیتا ہے۔جج نے کسان سے دریافت کیا کہ کیوں بھئی یہ کیاماجرا ہے؟ کیا تمہارے پاس ترازو اور ویٹس نہیں ہیں؟ انھیں استعمال نہیں کرتے؟ وہ بولا: جج صاحب ہمارا تو سالوں سے یہی کاروباری تعلق چلا آرہا ہے، اور میرے پاس سروع سے ترازو ہیں ن مگر ویٹس نہیں ہیں۔ جج نے تجسس سے دریافت کیا: تو تم اتنے سالوں سے مکھں کس حساب سے تول کر دیتے ہو؟ ویٹس کی جگہ کیا استعمال کرتے ہو؟ پہلے اس بیکری کے مالک کو کبھی شکایت کیوں نہیں ہوئی تھی؟ وہ کسان بولا: جج صاحب میں شروع سے اس کو دینے کے لیے جب مکھن تولتا تھا تو ایک طرف اس کا ایک بریڈ لوف رکھتا تھا۔ اس بریڈ لوف کا جتنا وزن ہوتا تھا، اسی کے مطابق میں آج تک اس کو مکھن تول کر دیتا ہوں۔۔۔اب آپ لوگ سوچیں کہ پہلے بے ایمانی کس نے کی ہو گی کیونکہ کسان بیچارہ تو جاہل تھا اور شروع سے بیکری کے ممالک سے بیڈ لوف خریدتا تھا اور

اسی کے وزن کے مطابق تول کر بیکری کے مالک کو مکھن دیتا تھا۔ جیسے جیسے بیکری کے مالک نے چا لاکی لگانی شروع کی اور بریڈ کے دام سارے قصبے والوں کے لیے وہی رکھے مگر اس کا سائیز چھاٹا کرتا گیا، تو خدا کی کرنی کہ بیوقوف کسان اسی کے بریڈ لوف سے ناپ ناپ کر ایمانداری سے اس کو مکھن دیتا رہا۔ بیکری کے مالک کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کی کی ہوئی چالاکی اس کے اپنے ہی گلے پڑ جائے گی۔ ہم جیسا کرتے ہیں ویسا ہی بھرتے ہیں۔ یہ دنیا کا اصول ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎