بس کرو

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  11:23

ایک بچے کا ہاتھ ایک گلدان میں پھنس گیا، اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح میرا ہاتھ باہر نکل آئے لیکن بے سود، اس کے باپ نے بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر زور بھی لگایا اور ہاتھ دبا دبا کر بھی نکالنے کی کوشش کی مگر، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ایسے میں اس کے باپ نے اپنی آخری ٹرائی ماری اور بچے کو بولا کہ بیٹا اپنا ہاتھ بالکل سیدھا کرو اور اپنی انگلیاں کھولو، ہو سکتا ہے کہ آپ نے اندر مٹھی بنائی ہوئی ہو اور اس وجہ سے آپ کی کوشش کے باوجود

آپ کا ہاتھ اندر سے نہیں نکل رہا؟ بچہ بولا نہیں نہیں اگر میں نے ہاتھ کھول دیا تو میری سکہ اندر ہی گر جائے گا۔ پھر میرا سکہ کیسے باہر نکلے گا۔

اس کا باپ حیران رہ گیا، کہ اس سارے وقت میں بچے کا ہاتھ صرف اس لیے پھنسا ہوا تھا کیونکہ اس کو ایک معمولی سکہ چاہیے تھا۔ باپ نے بولا بیٹا پلیز اسے چھوڑ دو۔ ہم کبھی یہ نہیں سوچتے کہ وہ تو ایک بچہ تھا، ہم سب نے کوئی نہ کوئی ایسی خواہش پال رکھی ہے جو اس سکے کی طرح ہمیں بہت پیاری ہے اور وہ ہماری آزادی کو مفقود کرتی ہے۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی سکہ اسی طرح پکڑا ہوا ہے اور قسم کھا لی ہے کہ اس کو کبھی نہیں چھوڑنا، اوراس سب کی کوئی تک نہیں بنتی، لیکن ہم وہ سکہ چھوڑنے کو تیار ہی نہیں اور اپنا وقت اور اپنی آزادی، آزاد خیالی کو اس سکے کی لالچ کے بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ اس بات کو سمجھیں کہ سمجھداری اسی میں ہے کہ اس سکے کو جانے دیں۔ یہ کہانی بلی گراہم نے لکھی ہے اور اس کا نام اس نے منتخب کیا تھا: ’جانے دو‘۔ بہت آزمودہ سبق ہے اگر کوئی غور و فکر کرے تو۔ سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں، سب سیاستدانوں نے ایک ایک سکہ پکڑا ہوا ہے اور برسوں سے اسی پر اڑے ہوے ہیں، عمران خان نے نواز شریف کی کرپشن، الیکشن میں دھاندلی کا سکہ پکڑا ہوا ہے، نواز شریف نے عمران خان کے سیاسی تجربے کی کمی کو سکہ بنایا ہوا ہے، آرمی نے سیاست میں گھس گھس کر

اپنا ٹیکا جمانے کا سکہ پکڑا ہوا ہے۔ اور مولویوں نے سب کافر ہیں سب کافر ہیں کا سکہ پکڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی اپنا سکہ چھاڑنے کو تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنے موئقف پر جما ہوا ہے، سالوں کے تجربوں نے یہ نہیں سکھایا کہ تمہیں کسی سے کیا لینا دینا، کسی کو کیوں دیکھتے ہو، اس کے کام کو کردار کو کیوں نشانہ بناتے ہو، اپنے کام پر توجہ دو، باقیوں کا ٹھیکا لینا پاکستانی قوم کا وطیرہ بن چکا ہے، پڑوسی بھوکا سویا ہے، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں لیکن اس کی بیوی بیٹی کس کس سے مل رہے ہیں یہ پوری کہانی میری انگلیوں پر ہے۔ خدارا اپنا سکہ چھوڑ دو، جانے دو۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎