کتنا حسین

  جمعہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2017  |  11:01

ہسپتال کے ایک کمرے میں دو مریض ایڈمٹ تھاہ تھے۔ دونوں بہت سخت بیمار تھے۔ سارا دن بیڈ پر پڑے رہتے تھے۔ ایک ہر روز دن مین صرف ایک بار بیٹھ پاتا تھا، جب نرس اسے سہارا دے کر بٹھاتی تھی اور اس کے پھیپھڑوں میں سے فاضل مادہ نکالتی تھی۔ اس کے بعد وہ بیچارہ پھر لیٹ جاتا تھا اور پورا دن بستر سے اٹھ نہیں سکتا تھا۔ دوسرا مریض بھی بہت بیمار تھا۔ ایک دو دفعہ دن میں دیوار کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھتا تھا اور پھر کھڑکی سے باہر دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔

کہ کبھی ٹھیک ہو جاؤنگا تو باہر ضرور نکلوں گا۔ وہ اپنے دوست کو بھی ہمت دیتا تھا، اس کو ہوست کو بھی محظوظ کرتا تھا۔ ایک دن کھڑکی کے پاس والا مریض رات کو نیند میں سکون سے انتقال فرما گیا۔ دوسرے دن صبح جب نرس دونوں کا چیک اپ کرنے آئی تو اس کو دیکھ کر سمجھ گئی اور ڈاکٹر کو بتایا۔ اس کی لاش کو ادھر سے منتقل کر دیا گیا۔ دوسرا مریض بہت اداس ہوا۔ اس نے نرس سے بے ادھر کھڑکی کے پاس شفٹ کر دیں۔ اس نے بوڑھے مریض کی مدد کی اور اس کا بیڈ

اس طرف سرکا دیا۔ جب وہ کھڑکی کے پاس آیا تو اس نے بمشکل اٹھ کر باہر جھانکا۔۔۔ادھر تو ساتھ والی عمارت کی ایینٹوں والی دیوار تھی۔ اور ادھر سے باہر کچھ بھی نظر نہیں آسکتا تھا۔ اس نے حیرت سے نرس سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا ہے، مت ادھر سے باہر کے مناظر دیکھ دیکھ کر کہانیاں سناتا تھا۔ ادھر تو بس دیوار ہے، وہ بولی : سر آپ کا دوست آپ کو یہ نہیں بتاتا تھا کہ وہ بیچارہ تو خود اندھا تھا وہ بھلا آپ کو باہر دیکھ کر کیا بتا سکتا تھا۔

لیکن وہ دل کا بہت اچھا آدمی تھا اور آپ کو جب بھی فلوئیڈ ڈرین کرنے سے درد ہوتا تھا تو وہ آپ کا دھیان بٹانے کے لیے ایسی باتیں کرتا تھا۔ اس کو ایسا موزی مرض تھا کہ وہ جانتا تھا کہ وہ ادھر سے پ کی حوصلہ افزائی کے لیے آپ کو ایسی کہانیاں بنا کر سناتا تھا۔ یہ سن کر اس پریض کی آنکھوں میں آنسو آگئے کہ ایک اندھا اتنے سالوں سے اس کی زندگی میں امید کی ایک ب ہی جی لیتے ہیں، کبھی کسی اور کے لیے جی کر دیکھو۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎