کمال

  جمعہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2017  |  17:57

ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا‘کیا کمال کا انسان ہو گا وہ جو ہوا میں اڑ سکے‘ابوسعید نے جواب دیا ”یہ کونسی بڑی بات ہے‘ یہ کام تو مکھی بھی کر سکتی ہے“ پوچھنے والے نے تائید میں سر ہلایا اور ایک سوال اور داغ دیا‘ پوچھنے لگا اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے تواس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ہے؟ابوسعیدنے جواب دیا”یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ہے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطح آب پر تیر سکتا ہے“۔ وہ شخص چپ ہو گیا۔ اس شخص نے پھر پوچھا تو آپ کے خیال میں

پھر کمال کیا ہے؟۔

آپ نے اس کے جواب میں چند جملے ارشاد فرمائے ‘ آپ نے فرمایا کہ”میری نظر میں کمال یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان رہو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے“جھوٹ کبھی نہ کہو‘کسی کا نہ کہو‘کسی کا تمسخر نہ اڑاﺅ‘کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اٹھاﺅ‘ میری نظر میں یہ کمالات ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے‘ یہ کافی ہے کہ کسی کے بارے میں بغیر جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔

یہ لازم نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں‘ یہ کافی ہے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔یہ ضروری نہیں کہ ہم دوسروں کی اصلاح کریں‘ یہ کافی ہے کہ ہماری نگاہ اپنے عیوب پر ہوحتیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کریں‘ اتنا کافی ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ہوں۔دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا ہی اصل کمال ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎